Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 25

  1. اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ﴿25﴾

    1. اَنَّابیشک ہم نے
    2. صَبَبْنَا الْمَآءَڈالا ہم نے/پلٹنا ہم نے/ انڈیلا ہم نے پانی
    3. صَبًّاڈالنا/ انڈیلنا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ ہم نے برسایا پانی اچھی طرح ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
غور کرنے کا طریقہ: صرف غور کرنے کی دعوت ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ غور کی لائن بھی معین کر دی کہ یوں غور کرے۔ فرمایا کہ یہ ہماری ہی قدرت و عنایت کا کرشمہ ہے کہ ہم اچھی طرح مینہ برساتے اور پھر زمین کے مسامات کو اس مینہ سے سیراب ہونے کے لیے اچھی طرح کھول دیتے ہیں۔ نہ آسمان سے پانی برسانا کسی کے بس میں ہے اور نہ زمین کے مسامات کو کھولنا کسی کے امکان میں، درآنحالیکہ انہی دونوں چیزوں پر زمین کی تمام فیض بخشی کا انحصار ہے۔ یہی مضمون سورۂ انبیاء میں یوں بیان ہوا ہے: ’اِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا‘ (الانبیاء ۲۱: ۳۰) (آسمان اور زمین دونوں بند ہوتے ہیں پس ہم ان کو کھول دیتے ہیں)۔ اوپر کے پیرے میں انسان کی خِلقت کی جو نوعیت بیان ہوئی ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے غور کیجیے تو دونوں دلیلوں کی مشابہت واضح ہو گی۔ وہاں بیان دلیل کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ بات اثبات امکان قیامت سے چلی پھر ربوبیت، مسؤلیت اور جزا و سزا تک پہنچتی ہے۔ یہاں بھی آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ استدلال کی ترتیب وہی ہے۔ پہلے ایک جامع بات نے امکان معاد کی تمہید استوار کر دی۔ اس کے بعد ربوبیت کے آثار کی طرف توجہ دلائی گئی اور پھر مسؤلیت اور جزا و سزا کو ایک بدیہی نتیجہ کے طور پر سامنے رکھ دیا گیا ہے۔