Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 34

  1. یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ﴿34﴾

    1. يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُاس دن دوڑے گا انسان
    2. مِنْ اَخِيْهِاپنے بھائی سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن آدمی اپنے بھائی، بھاگے گا ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ تفصیل ہے اس دن کی ہولناکی کی: ’یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ‘ ’اِذَا‘ کا جواب نہیں ہے۔ اگر جواب ہوتا تو عربیت کے قاعدے سے اسلوب بیان اور ہوتا۔ جواب تو، جیسا کہ سورۂ نازعات کی آیت ’یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی‘ (النازعات ۷۹: ۳۵) کے تحت گزر چکا ہے، محذوف ہے البتہ اس سے محذوف جواب پر روشنی ضرور پڑتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج پیغمبرؐ کے انذار سے انھوں نے اپنے کان جو بند کر رکھے ہیں تو اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کو اپنی خاندانی اور قبائلی قوت و عصبیت پر بڑا ناز ہے۔ اس زعم نے ان کو اندھا کر رکھا ہے کہ بھلا ان کو ان کے مقام سے کون ہلا سکا ہے یا ہلا سکے گا لیکن اس بہری کر دینے والی چیخ کے بعد جو دن آئے گا وہ ایسا ہولناک ہو گا کہ ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی۔ نہ بھائی اپنے بھائی کی فریاد سنے گا، نہ بیٹا اپنے ماں باپ کی دہائی پر کان دھرے گا اور نہ کوئی اپنی بیوی اور بیٹوں کی مصیبت میں ان کا شریک بننے کا حوصلہ کرے گا۔ اس دن ہر ایک کو اپنی ہی ایسی پڑی ہو گی کہ کسی دوسرے کی نبیڑنے کا وہ کوئی تصور ہی نہ کر سکے گا اگرچہ وہ کتنا ہی قریبی عزیز ہو۔ یہی مضمون سورۂ معارج میں بدیں الفاظ میں گزر چکا ہے: وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا ہ یُّبَصَّرُوْنَہُمْ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤۡیْہِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ.(المعارج ۷۰: ۱۰-۱۴) (اور اس دن کوئی سرگرم سے سرگرم دوست بھی اپنے دوست کا پرسان حال نہ ہو گا۔ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے لیکن مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی، اپنے خاندان کو جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اس دن کے عذاب سے اپنے کو بچا لے۔) ان دونوں آیتوں میں اگر کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ آیت زیربحث میں رشتہ داروں کی ترتیب اَبعد سے اَقرب کی طرف سے اور اس آیت میں اَقرب سے اَبعد کی طرف اور یہ دونوں اسلوب بلاغت کلام کے تقاضے سے اختیار کیے گئے ہیں اور یہ بلاغت بالکل واضح ہے۔