Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 33

  1. فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘﴿33﴾

    1. فَاِذَاپھر جب
    2. جَآءَتِآئے
    3. الصَّآخَّةُکان پھوڑنے والی
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب وہ کانوں کو بہرا کردینے والی آواز آئے گی ! (تب وہ شدنی ظاہر ہوگی)
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیامت کی یاددہانی: ’صَآخَّۃٌ‘ کے معنی بہری کر دینے والی کڑک یا چیخ کے ہیں۔ جس طرح سورۂ نازعات میں لفظ ’طَآمَّۃٌ‘ آیا ہے اسی طرح اس سورہ میں لفظ ’صَآخَّۃٌ‘ آیا ہے۔ یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ صور قیامت کی پہلی کڑک ہی ایسی ہولناک ہو گی کہ کانوں کو بہرا کر دے گی۔ ’اِذَا‘ کا جواب، جیسا کہ سورۂ نازعات کی آیات ۳۰-۳۵ کے تحت بیان ہو چکا ہے بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ پیغمبر کے انذار سے اپنے کان بند کیے ہوئے ہیں لیکن اس دن کیا کریں گے جس دن خدا کا منادی اتنے قریب سے ان کو پکارے گا کہ اس کی آواز سب کے کانوں کے پردے پھاڑ دے گی!