Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 5

  1. اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ﴿5﴾

    1. اَمَّارہا
    2. مَنِ اسْتَغْنٰىوہ جو بےپروائی کرتا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو بےبروائی برتتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اصل تنبیہ: یہ وہ اصل تنبیہ ہے جو اس موقع پر نبی ﷺ کو فرمائی گئی کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ جو اپنی اصلاح کے طالب بن کر آئیں اور ان کے اندر خدا کے حضور پیشی کا خوف ہو وہ آپ کی توجہ کے اصل مستحق قرار پائیں لیکن ہو یہ رہا ہے کہ جو بے پروا و بے نیاز ہیں آپ ان کو دعوت دینے کے لیے تو اپنے رات دن ایک کیے ہوئے ہیں حالانکہ وہ اگر اپنی اصلاح نہیں چاہتے تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔ آپ پر اصل ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جو ذوق و شوق سے آپ کے پاس آتے ہیں لیکن آپ ان سے غفلت برتتے ہیں۔ چند باتوں کی وضاحت: ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت ﷺ پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔ دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو ’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳) (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔ تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت ﷺ کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔ اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت ﷺ کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت ﷺ کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘