تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 7
وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ﴿7﴾
- وَاِذَا النُّفُوْسُاور جب جانیں
- زُوِّجَتْجوڑے باندھے جائیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب کہ نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ظہور قیامت کے بعد کے احوال:
اوپر کی آیات میں وہ احوال بیان ہوئے جو ظہور قیامت کے وقت پیش آئیں گے۔ اب اس آیت اور بعد کی آیات میں وہ باتیں بیان ہو رہی ہیں جن کا تعلق ظہور قیامت کے بعد کے احوال سے ہے۔
فرمایا کہ جب کہ ’نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی‘ جوڑیں ملانے سے مقصود لوگوں کی ان کے اعمال و عقائد کے اعتبار سے الگ الگ گروہ بندی ہے۔ یہ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے جس کی تفصیل سورۂ واقعہ کی آیت ۷:
’وَکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً‘
(اور اس وقت تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔)
سے لے کر آیت ۴۴ تک بیان ہوئی ہے۔ وہاں واضح فرمایا ہے کہ اس دنیا میں تو نیک و بد دونوں ایک ہی ساتھ زندگی گزارتے ہیں لیکن یہی حالت ہمیشہ نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جب لوگوں کی درجہ بندی ان کے ایمان و اخلاق کی بنیاد پر ہو گی۔ اس دن وہ لوگ فائز المرام اور ابدی بادشاہی کے حق دار ٹھہریں گے جو اس روز عدل کی میزان میں پورے اتریں گے اور وہ لوگ ابدی خسران و ذلت سے دوچار ہوں گے جو اس سے بے پروا ہو کر زندگی گزاریں گے۔ اس کے بعد لوگوں کو تین بڑے گروہوں۔۔۔ اصحاب الیمین، اصحاب الشمال اور سابقون و مقربون۔۔۔ میں تقسیم کیا جانا بیان کیا ہے اور ہر گروہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو معاملہ ہو گا اس کی تفصیل ہے۔ اسی چیز کی طرف دو لفظوں میں یہاں اشارہ فرما دیا ہے اور مقصود لوگوں کو متنبہ فرمانا ہے کہ یہ دنیا آزمائش و امتحان کے لیے ہے۔ اس میں خیر و شر اور حق و باطل دونوں کو مہلت ملی ہوئی ہے لیکن قیامت کے بعد جو جہان نو پیدا ہو گا اس میں باطل کے پرستار جہنم میں جھونک دیے جائیں گے اور ان لوگوں کو ابدی سرفرازی حاصل ہو گی جو امتحان میں پورے اتریں گے۔