Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 8

  1. وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ﴿8﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. الْمَوْءٗدَةُزندہ گاڑی ہوئی لڑکی
    3. سُئِلَتْپوچھا جائے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
معصوم مظلوموں کی داد رسی: یہ اس روز عدل کے عدل کی طرف اشارہ ہے اور اس کے بیان کے لیے بطور مثال زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کی داد رسی کا حوالہ ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس دن سب سے پہلے وہ معصوم اپنی مظلومیت کی داد پائیں گے جو بالکل بے گناہ ان لوگوں کے ہاتھوں ظلم کے شکار ہوئے جن کو خدا نے ان کا محافظ بنایا۔ ’مَوْءٗ دَۃٌ‘ زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کو کہتے ہیں۔ عرب جاہلیت کے بعض اجڈ قبائل میں سنگ دل باپ اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ بیشتر تو اس سنگ دلی کا سبب فقر کا اندیشہ ہوتا لیکن بعض حالات میں غیرت کی بے اعتدالی بھی اس کا باعث بن جاتی۔ ان مظلوم بچیوں کو زندہ درگور کرنے والے چونکہ ان کے باپ ہی ہوتے، جن کو ان کے اوپر کلی اختیار حاصل ہوتا، اس وجہ سے ان کی داد فریاد کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ اخروی عدالت کا مزاج: قرآن نے یہاں ان بے زبان مظلوموں کی دادرسی کا ذکر کر کے اخروی عدالت کا مزاج واضح فرمایا ہے کہ اس میں سب سے پہلے ان کی داد رسی ہو گی جو اس دنیا میں سب سے زیادہ بے بس اور کمزور تھے اور جو اپنے اوپر گزرے ہوئے ظلم کی کسی کے آگے فریاد بھی نہ کر سکے۔ ان کو سب سے پہلے پکارا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ انھیں کس گناہ پر مارا گیا؟ ان سنگ دل باپوں کو یہ نہایت ہی سخت قسم کی تنبیہ ہے کہ اگر ان کی سنگ دلی کے خلاف یہ بے زبان و بے گناہ بچیاں فریاد نہ کر سکیں تو اس سے وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ خدا کے ہاں بھی ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا۔ اس دن اللہ تعالیٰ خود ان کے خون کا مدعی بنے گا۔ وہ ان مظلوموں سے پوچھے گا کہ تمہیں کس جرم میں مارا گیا؟ اس سوال کا مقصد ظاہر ہے کہ یہی ہو گا کہ ان کے قتل ناحق کا مقدمہ جو دنیا کی کسی عدالت میں نہ جا سکا اس کو رب العزت خود اپنی عدالت میں لائے اور اس کا فیصلہ فرمائے۔