تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 82. Al-Infitaar · Ayah 1
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ﴿1﴾
- اِذَا السَّمَآءُجب آسمان
- انْفَطَرَتْپھٹ جائے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب کہ آسمان پھٹ جائے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’اِنْفَطَارٌ‘ کے معنی پھٹ جانے اور شق ہو جانے کے ہیں۔ ظہور قیامت کے وقت آسمان پھٹ جانے کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ سورۂ انشقاق کی پہلی ہی آیت میں یہی مضمون ’اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ سورۂ رحمٰن کی آیت ۳۷ میں بھی لفظ ’اِنْشِقَاقٌ‘ استعمال ہوا ہے اور ’اِنْفَطَارٌ‘ و ’اِنْشِقَاقٌ‘ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔
ایک نیا عالم نئے نوامیس کے ساتھ: قیامت کے بعد ایک بالکل نیا عالم، نئے نوامیس و قوانین کے تحت ظہور میں آئے گا اس وجہ سے اس عالم کہن کی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ اس ٹوٹ پھوٹ کی شکل کیا ہو گی؟ اس کا صحیح تصور آج نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کی یاددہانی اس لیے فرمائی گئی ہے کہ جو اغنیاء و مستکبرین اپنے قلعوں اور گڑھیوں کے اعتماد پر بالکل نچنت ہیں، سمجھتے ہیں کہ انھوں نے جو کچھ بنا رکھا ہے وہ ان کو ہر خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہے، ان کو جھنجھوڑا جائے کہ قیامت کی ہلچل ایسی ہو گی کہ تمہارے بنائے ہوئے گھروندوں کا تو کیا ذکر اس پورے عالم کی یہ محکم چھت جس میں تم ڈھونڈھے سے بھی کوئی رخنہ نہیں پا سکتے، بالکل رخنہ ہی رخنہ اور شگاف ہی شگاف بن کر رہ جائے گی۔
یہاں اس الجھن میں اپنے دماغ کو نہ ڈالیے کہ یہ آسمان جو ہمیں نظر آتا ہے یہ محض ایک خلا ہے یا کوئی ٹھوس چیز ہے بلکہ اس امر پر یقین رکھیے کہ جس طرح آج اس کا مشاہدہ آپ ایک محکم چھت کی شکل میں کر رہے ہیں جس میں کسی رخنہ کی نشان دہی نہیں کی جا سکتی اسی طرح قیامت کی ہلچل کے وقت اس میں شگاف ہی شگاف نظر آئیں گے۔