Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 82. Al-Infitaar · Ayah 13

  1. اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ﴿13﴾

    1. اِنَّ الْاَبْرَارَبیشک نیک لوگ
    2. لَفِيْ نَعِيْمٍجنت میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک نیکوکار عیش میں ہوں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نتیجہ اس اہتمام و انتظام کا جو اوپر مذکور ہوا: یہ نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے اس اہتمام و انتظام کا جو اوپر مذکور ہوا کہ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں اور بدکاروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا بلکہ وہ نیکوں کو جنت میں داخل کرے گا اور بدوں کو دوزخ میں۔ جو نادان یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے، اس کے بعد نہ موت ہے نہ زندگی یا یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ اگر مرنے کے بعد زندگی ہوئی تو وہاں بھی وہ اپنے شرکاء کی سفارش سے اس سے اچھی زندگی حاصل کر لیں گے جو یہاں حاصل ہے، تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائیں۔ اس کائنات کا خالق نیکی و بدی کے معاملے میں بے حس اور غیر جانبدار نہیں ہے کہ سب کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ کرے، بلکہ وہ لازماً دونوں میں فرق کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ العیاذ باللہ نیک اور بد دونوں اس کی نگاہ میں یکساں ہیں اور اس کی دنیا ایک اندھیر نگری ہے جس میں حق و عدل کا کوئی تصور نہیں ہے۔