Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 83. Al-Mutaffifin · Ayah 8

  1. وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ﴿8﴾

    1. وَمَآ اَدْرٰىكَاور کیا خبر ہے تجھے
    2. مَا سِجِّيْنٌکیا ہے سجین
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم کیا جانو کہ سجین کیا ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’سِجِّیْنٌ‘ کی تحقیق: لفظ ’سِجِّیْنٌ‘ اوپر والی آیت میں لغوی مفہوم میں نہیں بلکہ بطور ایک نام کے آیا ہے اس وجہ سے قرآن نے خود ہی اس کی وضاحت بھی فرما دی ہے۔ اس طرح کے نام قرآن میں متعدد آئے ہیں اور ہر جگہ ان کی وضاحت بھی فرما دی گئی ہے۔ سورۂ دہر میں ان کی بعض مثالیں گزر چکی ہیں۔ آگے اس سورہ میں بھی ’عِلِّیُّوْنَ‘ اور ’تَسْنِیْمٌ‘ کے الفاظ اسی نوعیت سے آئے ہیں۔ اس قسم کے الفاظ میں اصل اہمیت ان کے لغوی مفہوم کی نہیں بلکہ ان کے اصطلاحی مفہوم یا ان کے تسمیہ کی ہوتی ہے۔ ’وَمَا أَدْرَاکَ مَا سِجِّیْنٌ‘۔ یہ اسلوب بیان ’سِجِّیْنٌ‘ کے ہول کو ظاہر کرنے کے لیے اختیار فرمایا گیا ہے کہ تم کیا سمجھے کہ ’سِجِّیْنٌ‘ کیا ہے! اس کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھو! وہ تباہ ہوا جس کا نام یا جس کے اعمال اس میں درج ہوئے! ’کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ‘۔ وہ لکھا ہوا دفتر ہے۔ یعنی اس میں تمام مجرمین کا سارا ریکارڈ بشکل تحریر محفوظ کیا جاتا ہے۔ ’بشکل تحریر‘ کی قید سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ نہ اس میں کسی سہو و نسیان کا کوئی امکان ہے اور نہ اس کے حجت ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش۔ معلوم ہوا کہ ’سِجِّیْنٌ‘ اس دفتر کا نام ہے جس میں مجرموں کے اعمال کا سارا ریکارڈ تحریری صورت میں محفوظ کیا جا رہا ہے اور جس کی بنیاد پر قیامت کے دن فیصلہ ہو گا کہ کون دوزخ کے کس درجے میں داخل کیے جانے کا سزاوار ہے۔ ’سِجِّیْنٌ‘ کا مادہ ’سجن‘ ہے جس کے معنی قید یا قید خانہ کے ہیں۔ اس مناسبت سے مستحقین سزا کے ریکارڈ آفس کا نام ’سِجِّیْنٌ‘ رکھا گیا ہے۔