تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 84. Al-Inshiqaaq · Ayah 1
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ﴿1﴾
- اِذَاجب
- السَّمَآءُآسمان
- انْشَقَّتْپھٹ جائے گا
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب کہ آسمان پھٹ جائے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیامت کے دن کی ہلچل:
قیامت کے بعد جو جہان نو وجود میں آئے گا وہ نئے نوامیس و قوانین کے تحت وجود میں آئے گا اس وجہ سے اس میں یہ آسمان و زمین جو آج موجود ہیں، ختم ہو جائیں گے اور ان کی جگہ، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، دوسرے آسمان و زمین نمودار ہو جائیں گے۔
’اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ‘ کے الفاظ سے یہاں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو سورۂ انفطار میں ’اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ‘ (۱) کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ کائنات کے اس سب سے بڑے حادثہ کا آج کوئی اندازہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ قرآن نے اس ہلچل کا ذکر ان نادانوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کیا ہے جو اپنے قلعوں اور محلوں پر بہت نازاں تھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی تھی کہ بھلا ان میں کوئی دراڑ کہاں سے پڑ جائے گی؟ ان کو آگاہ فرمایا کہ قلعے اور گڑھیاں، ایوان اور محل تو درکنار سرے سے یہ آسمان و زمین ہی پاش پاش ہو جائیں گے جن کے اندر یہ گھروندے تم نے بنائے ہیں۔