Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 84. Al-Inshiqaaq · Ayah 18

  1. وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ﴿18﴾

    1. وَالْقَمَرِاور چاند
    2. اِذَا اتَّسَقَجب مکمل ہوجائے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور چاند کی جب وہ پورا ہوجاتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ‘۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ ’وَمَا وَسَقَ‘ تو تمام کواکب و نجوم اور تمام ثابت و سیارات پر مشتمل ہے لیکن قمر کو ان کے خاص فرد یا گل سرسبد کی حیثیت سے منتخب کر کے اس کے عروج و محاق اور کمال و زوال کو خاص طور پر نمایاں فرمایا اس لیے کہ ’یَا أَیُّہَا الْإِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا‘ (۶) اور ’لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ‘ کی حقیقت کا مظاہرہ جس طرح اس کے کمال و زوال میں ہوتا ہے اس طرح کسی دوسری چیز میں نمایاں ہو کر سامنے نہیں آتا۔ چنانچہ قرآن نے دوسرے مقام میں اس کے اس پہلو کی طرف خاص طور پر اشارہ فرمایا بھی ہے: ’وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ حَتَٰی عَادَ کَالْعُرْجُوۡنِ الْقَدِیْمِ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۳۹) (اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں ٹھہرا رکھی ہیں، وہ ان کے طے کر نے میں ایسا ہو جاتا ہے جس طرح کھجور کی پرانی ٹہنی ہو)۔ ’إِذَا اتَّسَقَ‘ کے معنی ہیں جب کہ وہ پورا ہو جاتا ہے۔ یہاں اشارہ اس کے پورے ہونے کی طرف فرمایا ہے کہ دیکھو کس طرح درجہ بدرجہ اس کو چڑھانی چڑھنی پڑتی ہے۔ مجال نہیں ہے کہ اس سے سرمو انحراف کر سکے اور اس نقطۂ کمال پر پہنچ کر اس کے اختیار میں یہ نہیں ہے کہ وہیں ٹک جائے بلکہ اسی طرح منزل کے بعد منزل طے کرتے ہوئے اسے اترنا بھی پڑتا ہے اور اس سے بھی اس کو مفر نہیں ہے۔