تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 84. Al-Inshiqaaq · Ayah 17
وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ﴿17﴾
- وَالَّيْلِاور رات
- وَمَا وَسَقَاور جو سمٹ آتی ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو وہ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَمَا وَسَقَ‘۔ رات کے بعد یہ ان چیزوں کی قسم کھائی ہے جن کو رات اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اس کی تشریح اہل لغت نے ’مَا جَمَعَ وَضَمَّ اِلَیْہِ‘ سے کی ہے، یعنی وہ چیزیں جن کو رات اپنے اندر جمع کر لیتی ہے۔ ہمارے مفسرین نے اس سے عام طور پر حیوانات وغیرہ کو مراد لیا ہے اس لیے کہ رات میں وہ آرام کے لیے اس کے دامن میں پناہ گیر ہو جاتے ہیں۔ بعض نے اس سے دریاؤں، پہاڑوں اور درختوں وغیرہ کو مراد لیا ہے کہ رات ان سب پر اپنی چادر اڑھا دیتی ہے۔ لیکن ان چیزوں کا تعلق اس مقسم علیہ سے سمجھ میں نہیں آتا جو اوپر مذکور ہوا درآنحالیکہ قسم کھائی جاتی ہی ہے مقسم علیہ کو ثابت کرنے کے لیے۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس سے وہ کواکب و نجوم مراد ہیں جو رات میں نمودار ہوتے اور جن سے اس کی بزم آراستہ ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اول تو رات ہی کے مخصوصات میں سے ہیں اس وجہ سے ان کے لیے ’وَمَا وَسَقَ‘ کی تعبیر نہایت موزوں ہے۔ دوسرے قرآن نے جگہ جگہ ان کے طلوع و غروب، ان کے عروج و محاق اور ان کے سجود و رکوع کو اس حقیقت کی شہادت میں پیش کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں مسخر ہیں، اسی کے حکم سے طلوع ہوتی ہیں، پھر ایک معین راستہ پر ایک خاص تدریج کے ساتھ ان کا ارتقاء ہوتا ہے، پھر بالتدریج ان کا زوال شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ بالآخر وہ اپنے اسی خالق کی طرف لوٹ جاتی ہیں جس کے حکم سے وہ نمودار ہوتی ہیں۔ گویا ان کے اندر اس قانون الٰہی کی بے پناہ گرفت کی نہایت واضح شہادت موجود ہے جس سے انسان کو ’اِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا‘ کے الفاظ سے آگاہ فرمایا گیا ہے۔