Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 84. Al-Inshiqaaq · Ayah 9

  1. وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ﴿9﴾

    1. وَّيَنْقَلِبُاور لوٹے گا
    2. اِلٰٓىطرف
    3. اَهْلِهٖاپنے لوگ
    4. مَسْرُوْرًاخوش خوش
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ اپنے لوگوں کے پاس نہایت شادمند لوٹے گا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک جامع اسلوب اور اس کے مضمرات: یہ ایک جامع اسلوب میں ان کا صلہ بیان ہوا ہے کہ اس دن وہ اپنے اہل و عیال میں خوش خوش لوٹیں گے۔ اس اسلوب بیان میں کئی باتیں سمٹ آئی ہیں جو خود بخود ظاہر ہیں، مثلاً ۔۔۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے باایمان اہل و عیال کو ان کے ساتھ جنت میں جمع کر دے گا اگرچہ اہل و عیال اس درجۂ بلند کے مستحق نہ ہوں جس کے وہ مستحق ہوئے تاکہ جنت کی کامیابیوں سے یک جا مسرور و شاد مند ہوں۔ سورۂ طور آیت ۲۱ میں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ اس یک جائی کے لیے اللہ تعالیٰ ان کے درجے کو نیچا نہیں کرے گا بلکہ ان کے اہل و عیال کے درجے بلند کر دے گا۔ ۔۔۔ یہ کہ انھوں نے اپنے اہل و عیال کے اندر ان کی عاقبت سے بے فکر رہ کر زندگی نہیں گزاری بلکہ دنیا سے زیادہ ان کی اخروی کامیابیوں کی فکر رکھی۔ فکر آخرت سے غافلوں کا رویہ تو سابق سورہ میں یہ بیان ہوا ہے کہ جب وہ اپنے اہل و عیال میں ہوتے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ بھلا اس ہرے بھرے باغ پر خزاں کدھر سے آ سکتی ہے: ’وَإِذَا انقَلَبُوْا إِلَی أَہْلِہِمُ انقَلَبُوْا فَکِہِیْنَ‘ (المطففین ۸۳: ۳۱) اس کے برعکس آخرت پر ایمان رکھنے والوں سے متعلق سورۂ طور آیات ۲۶-۲۷ میں یہ بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن جب وہ اپنے اہل و عیال کی یکجائی سے مسرور ہوں گے تو کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہوا کہ ہم ان کی اخروی فلاح سے غافل نہیں بلکہ اس کے لیے برابر فکرمند رہے جس کا صلہ ہمیں یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی ہمارے ساتھ جمع کر دیا۔ ’قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا فِیْٓ اَھْلِنَا مُشْفِقِیْنَ ۵ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَاَ وَوَقٰنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ‘۔ ۔۔۔ یہ کہ جو شخص اپنے اہل و عیال سے محبت رکھتا ہے اس کی اس محبت کا اصلی تقاضا یہ ہے کہ وہ ان کی عاقبت سنوارنے کے لیے خود بھی فکرمند رہے اوران کو بھی فکرمند رکھنے کی کوشش کرے۔ اسی فکرمندی سے آخرت میں یکجائی اور محبت کا اصلی سرور حاصل ہو گا۔ اگر آخرت کو نظر انداز کر کے اسی دنیا کے لیے محبت کی گئی تو وہ محبت بالآخر دونوں فریق کے لیے موجب وبال و خسران ہو گی اور قیامت میں دونوں باہم دگر مسرور ہونے کے بجائے ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔