تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 84. Al-Inshiqaaq · Ayah 10
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ﴿10﴾
- وَاَمَّااور وہ
- مَنْ اُوْتِيَجو دیا گیا
- كِتٰبَهٗاسکا اعمال نامہ
- وَرَآءَ ظَهْرِهٖاس کی پشت پیچھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
رہاوہ جس کا اعمال نامہ اس کے پیچھے سے پکڑا دیا جائے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آخرت سے غافلوں کا انجام:
یہ دوسرے گروہ یعنی ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جنھوں نے آخرت سے بالکل بے پروا رہ کر زندگی گزاری۔ فرمایا کہ ان کے اعمال نامے ان کے پیچھے ہی سے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑا دیے جائیں گے۔ اگرچہ الفاظ میں بائیں ہاتھ کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن قرینہ اس پر دلیل ہے۔ جب پہلے گروہ سے متعلق یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ اس کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے تاکہ ان کی اور ان کے اعمال نامے کی نامبارکی اس برتاؤ ہی سے واضح ہو جائے۔ علاوہ ازیں سورۂ حاقہ آیت ۲۵ میں واضح لفظوں میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ اس گروہ کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ فرمایا ہے:
’وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہ بِشِمَالِہ۵ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰبِیَہْ‘
(رہا وہ جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا، اے کاش! مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ گیا ہوتا)۔
زیربحث آیت سورۂ حاقہ کی مذکورہ آیت کی روشنی میں دیکھیے تو اس سے مضمون میں یہ اضافہ ہو جائے گا کہ اس گروہ کو بیک وقت دو فضیحتوں سے سابقہ پیش آئے گا۔ ایک یہ کہ اس کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے۔ دوسری یہ کہ یہ کام بھی اس طرح ہو گا کہ سامنے سے دیے جانے کے بجائے پیچھے ہی سے ان کو پکڑا دیے جائیں گے۔ مزید غور کیجیے تو یہ بات بھی اس سے نکلتی ہے کہ ان کے دونوں ہاتھ مجرموں کی طرح پیچھے کی طرف بندھے ہوں گے۔