تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 85. Al-Burooj · Ayah 3
وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ﴿3﴾
- وَشَاهِدٍاور حاضر ہونیوالا
- وَّمَشْهُوْدٍاور جہاں حاضر ہوتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور دیکھنے والے اور دیکھی ہوئی کی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیامت کے ان تمام شواہد کی طرف اشارہ جو آفاق میں موجود ہیں:
نکرہ یہاں تعمیم کے لیے ہے جس سے قیامت اور جزاء و سزا کے ان تمام دلائل و شواہد کی طرف اشارہ ہو گیا ہے جو آفاق کے ہر گوشے میں موجود ہیں بشرطیکہ انسان آنکھیں اور عبرت پذیر دل رکھتا ہو۔ مثلاً
۔۔۔ اس کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز خالق کی قدرت، حکمت، رحمت، ربوبیت اور دوسری اعلیٰ صفات کی گواہی دیتی ہے۔ ان صفات کا بدیہی تقاضا، جیسا کہ قرآن نے وضاحت فرمائی ہے، یہ ہے کہ یہ دنیا نہ یوں ہی چلتی رہے اور نہ یوں ہی ایک حادثہ کے طور پر تمام ہو جائے بلکہ واجب ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ اس کے نیکوں اور بدوں میں امتیاز کرے۔ جنھوں نے اس کے منشاء کے مطابق زندگی گزاری ہو وہ انعام پائیں اور جنھوں نے شتر بے مہار کی زندگی گزاری ہو وہ اس کی سزا بھگتیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کائنات کے خالق کے نزدیک خیر اور شر، نیک اور بد میں کوئی فرق ہی نہیں ہے۔
۔۔۔ قرآن نے جا بجا رسولوں اور ان کی قوموں کی کشمکش اور اس کشمکش کے نتیجہ کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں اور یہ دکھایا ہے کہ اس نے کس طرح ان لوگوں کو پامال کیا جنھوں نے اس کے رسولوں کی تکذیب کی اگرچہ وہ بڑی قوت و شوکت رکھنے والی قومیں تھیں۔ پھر ان کے آثار سے لوگوں کو سبق حاصل کرنے کی دعوت دی اور فرمایا ہے کہ ہم نے یہ آثار زمین میں محفوظ کیے ہی اس لیے ہیں کہ لوگ ان کو دیکھیں اور ان سے عبرت پکڑیں کہ اللہ نے جو کچھ ان کے ساتھ کیا ہے وہی ان کے ساتھ بھی کرے گا اگر انھوں نے بھی انہی کی روش اختیار کی اور انہی کی طرح اکڑ دکھائی۔
اس استدلالی پہلو کے ساتھ ساتھ ’شاہد‘ اور ’مشہود‘ کے الفاظ کے اندر ایک تخویف کا پہلو بھی ہے جو قیامت کے دن لوگوں کے سامنے آئے گا۔ وہ یہ کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جو کچھ وہ دنیا میں کر رہا ہے ان میں سے کوئی چیز خدا سے مخفی ہے بلکہ وہ جو کچھ کرے گا ایک ایک کر کے وہ اس کے سامنے آئے اور ہر چیز وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اس کے اعضاء و جوراح خود اس کے ہر قول و فعل کی گواہی دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے ’کرامًا کاتبین‘ اس کے جملہ نیک و بد اعمال و اقوال کی رپورٹ پیش کریں گے، حضرات انبیاء علیہم السلام اور صالحین و مصلحین بھی گواہی دیں گے کہ انھوں نے کیا بتایا اور سکھایا اور لوگوں نے ان کے اور ان کی تعلیمات کے ساتھ کیا سلوک کیا۔