تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 85. Al-Burooj · Ayah 4
قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ﴿4﴾
- قُتِلَہلاک کردئے گئے
- اَصْحٰبُوالے
- الْاُخْدُوْدِخندق (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہلاک ہوئے گھاٹی والے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
منکرین قیامت کو تنبیہ:
یہ مذکورہ قسموں کا جواب نہیں ہے بلکہ سورۂ ق اور بعض دوسری سورتوں میں جس طرح جواب قسم حذف ہو گیا ہے اسی طرح یہاں بھی جواب قسم حذف کر کے اس کی جگہ منکرین قیامت کے لیے تذکیر و تنبیہ کی آیتیں رکھ دی گئی ہیں۔ یہ طریقہ ان مواقع میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں جواب قسم اس قدر واضح ہو کہ ذکر کے بغیر بھی ذہن اس کی طرف بے تکلف منتقل ہو سکے۔ اس سے کلام میں ایجاز بھی پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ساری بات جواب قسم کی حیثیت سے محذوف بھی مانی جا سکتی ہے۔ جس کے لیے کلام کا سیاق و سباق مقتضی ہو۔ یہاں مذکورہ قسموں کی روشنی میں مقسم علیہ کو کھولیے تو یہ ہو گا کہ قیامت شدنی ہے، اللہ تعالیٰ کے احاطۂ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے، اس دن ہر شخص اپنے کیے کا انجام دیکھے گا۔
’اُخْدُوْدٌ‘ کے معنی کھڈ، کھائی اور گڑھے کے ہیں۔ اس کی وضاحت ’النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ‘ سے فرما دی گئی ہے۔ یعنی یہ گڑھے ایندھن والی آگ سے بھرے ہوں گے۔ ایندھن والی آگ، کی صفت سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اس آگ کے برابر بھڑکتے رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے وافر ایندھن فراہم کر رکھا ہے، کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ ایندھن کی کمی کے سبب سے کبھی یہ دھیمی پڑ جائے گی۔ اس ایندھن کی نوعیت سورۂ بقرہ آیت ۲۴ میں یوں واضح فرمائی گئی ہے:
’فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ‘
(پس اس آگ سے بچو جس کے ایندھن لوگ بنیں گے اور پتھر)۔
’اَصْحٰبُ الْأُخْدُوْدِ‘: ’اَصْحٰبُ الْأُخْدُوْدِ‘ کے تحت مفسرین نے ایک بادشاہ کا قصہ نقل کیا ہے لیکن اس کا کوئی نام یا زمانہ نہیں بتایا ہے۔ بس اتنا ہی بتاتے ہیں کہ اس نے اپنے دور کے بہت سے باایمان نصاریٰ کو محض اس جرم میں آگ کے گڑھوں میں پھنکوا دیا کہ انھوں نے اس کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اگرچہ اہل کتاب کی عقائدی چپقلش کے دور میں ایک دوسرے کو جلانے کے بعض واقعات تاریخوں میں مذکور ہیں لیکن خاص اس واقعہ سے متعلق مفسرین نے جو عجیب و غریب باتیں نقل کی ہیں وہ کسی طرح بھی قابل اعتبار نہیں ہیں، اس وجہ سے ہم ان سے صرف نظر کرتے ہیں۔ یہاں مخاطب، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، قریش کے فراعنہ ہیں جو کمزور مسلمانوں کو ظلم و ستم کا ہدف بنائے ہوئے تھے۔ وہ ایک ایسے مجہول بادشاہ کے انجام سے کیا سبق حاصل کرتے جس کا نام تک نہ ان کو معلوم تھا نہ مفسرین کے علم میں ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ’اَصْحٰبُ الْأُخْدُوْدِ‘ کے لیے یہاں جو زجر اور وعید ہے وہ آخرت سے متعلق ہے نہ کہ اس دنیا سے متعلق۔ اگر اس کو اس دنیا سے متعلق مانیے تو اس سے ان کے ظلم کی ایک ہلکی سی تصویر تو ضرور سامنے آتی ہے لیکن ان کا کوئی ایسا عبرت انگیز انجام قرآن نے نہیں بتایا ہے جو قریش کے لیے سبق آموز ہو سکتا۔ یہ بات کہ ان کی بھڑکائی ہوئی آگ نے خود ان کو اور ان کی بستیوں کو جلا کر راکھ بنا دیا صرف مفسرین نے بیان کی ہے۔ قرآن نے کوئی اشارہ اس کی طرف نہیں کیا حالانکہ پیش نظر مقصد کے لیے اصل ظاہر کرنے کی بات یہی تھی۔