Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 85. Al-Burooj · Ayah 8

  1. وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ﴿8﴾

    1. وَمَا نَقَمُوْااور نہیں بدلہ لیا
    2. مِنْهُمْان سے
    3. اِلَّآمگر
    4. اَنْکہ
    5. يُّؤْمِنُوْاوہ ایمان لائے
    6. بِاللّٰهِاللہ پر
    7. الْعَزِيْزِزبردست
    8. الْحَمِيْدِتعریفوں والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور انہوں نے ان پر محض اس وجہ سے غصہ نکالا کہ وہ ایمان لائے اس خدائے عزیز وحمید پر
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایمان والوں کی سب سے بڑی نیکی کافروں کے نزدیک سب سے بڑا گناہ ہے: یعنی مسلمانوں پر یہ غیظ و غضب اس وجہ سے نہیں ہے کہ ان سے کوئی قصور صادر ہوا ہے، بلکہ ان کی سب سے بڑی نیکی ان اشقیاء کے نزدیک ان کا سب سے بڑا جرم ہے جس کے سبب سے وہ سزاوار تعذیب قرار پائے ہیں۔ ان کو سزا اس گناہ کی دی جا رہی ہے کہ یہ خدائے عزیز و حمید پر ایمان لائے۔ حالانکہ خدائے عزیز و حمید پر ایمان لا کر ان کے ان بندوں نے وہ سب سے بڑا حق ادا کیا ہے جو ان کے خالق و مالک کی طرف سے ان پر عائد ہوتا ہے۔ ان کا یہ اقدام لائق اعتراف و اکرام اور قابل تقلید تھا نہ کہ سزاوار عناد و انتقام، لیکن جن کی مت ماری جاتی ہے وہ اپنے خیر خواہوں کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں۔ صفات عزیز و حمید کے تقاضے: یہاں اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے دو صفتوں۔۔۔ عزیز اور حمید۔۔۔ کا حوالہ ہے۔ صفت ’عزیز‘ اس کی عزت، قدرت، شان اور عظمت و جلال کو ظاہر کرتی ہے اور ’حمید‘ سے اس کی رحمت، ربوبیت اور سزاوار حمد و شکر ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے حوالہ سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ جو ذات ان صفات سے متصف ہے وہی حق دار ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ جو اس پر ایمان لائے انھوں نے اس کا سہارا لیا ہے جس کا سہارا ہی اصل سہارا ہے اور وہی فلاح پانے والے ہوں گے۔ اس میں ضمناً مظلوم مسلمانوں کے لیے جو بشارت اور ان کے درپۓ آزار کفار کے لیے جو وعید مضمر ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔