Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 86. At-Taariq · Ayah 12

  1. وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ﴿12﴾

    1. وَالْاَرْضِاور زمین کی
    2. ذَاتِ الصَّدْعِپھٹ جانے والی
Translation · Tadabbur-e-Quran
پر ازباراں اور زمین، پر شگاف
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’صَدْعٌ‘ کے معنی پھٹنے کے ہیں۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسامات کھل جاتے ہیں اور وہ پانی جذب کر کے پھول جاتی اور دیکھتے دیکھتے لہلہا اٹھتی ہے۔ اگرچہ یہاں لہلہا اٹھنے کا ذکر لفظوں میں نہیں ہے لیکن قرینہ اس پر دلیل ہے۔ اسلوب قسمیہ ہے اس وجہ سے بات اشاروں میں کہہ دی گئی ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں مختلف اسلوبوں سے یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو ازسرنو زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ جو لوگ اس بات میں شک کر رہے تھے ان کو ملامت کی گئی ہے کہ تم ایک ایسی بات میں شک کر رہے ہو جس کا مشاہدہ آئے دن تمہیں ہوتا رہتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اسی طرح کے شکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوۡا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ (الانبیاء ۲۱: ۳۰) ’’کیا جنھوں نے قیامت کا انکار کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند ہوتے ہیں پس ہم ان کو کھول دیتے ہیں اور ہم نے پانی سے ہر چیز کو زندہ کیا۔‘‘ اس آیت کی تفسیر اس کے محل میں دیکھ لیجیے۔ آسمان و زمین کے بند ہونے سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ نہ آسمان سے پانی برستا نہ زمین سبزہ اگاتی لیکن جب اللہ تعالیٰ آسمان کے دریچے کھول کر پانی برسا دیتا ہے تو زمین بھی اپنے خزانوں کے دروازے کھول دیتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ جب چاہے گا زمین سے ان سارے لوگوں کو زندہ اٹھا کھڑا کرے گا جو اس میں دفن ہیں۔