تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 86. At-Taariq · Ayah 4
اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ﴿4﴾
- اِنْنہیں
- كُلُّ نَفْسٍکوئی جان
- لَّمَّامگر
- عَلَيْهَا حَافِظٌاس پر نگہبان
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ کوئی جان نہیں کہ اس پر نگہبان نہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ستاروں کی شہادت اس دعوے پر کہ ہر جان پر خدا کے نگران ہیں:
یہ مقسم علیہ یا اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے مذکورہ بالا قسم کھائی گئی ہے۔
’لَمَّا‘ کا استعمال یہاں ذرا نادر ہے اس وجہ سے اس کی توجیہ میں اہل نحو نے اختلاف کیا ہے۔ ہم اس کی تحقیق سورۂ ہود آیت ۱۱۱ اور سورۂ زخرف آیت ۳۵ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔
ستاروں کی شہادت اس دعوے پر کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جان پر نگران مقرر کر رکھے ہیں ایک تو اس پہلو سے ہے کہ انسان سوچے کہ جس خدا کی مقرر کی ہوئی اتنی ان گنت آنکھیں رات بھر جاگتی اور ٹکٹکی لگائے زمین والوں کو گھورتی رہتی ہیں کس کی مجال ہے کہ اس کے دام سے بچ کے نکل سکے۔ سائنس کی ایجاد کردہ بڑی سے بڑی دوربینوں کے اندر بھی وہ طاقت نہیں ہے جو آسمان کے معمولی سے معمولی ستاروں کے اندر ہے جن کی روشنی تہ بہ تہ فضاؤں کو چیرتی ہوئی زمین تک پہنچ جاتی ہے۔ جو خدا اپنی قدرت کی یہ شان ہر شب میں ہمیں دکھا رہا ہے اس کے متعلق یہ تصور کہ اس کی نگاہوں سے کوئی چیز بھی اوجھل رہ سکتی ہے صرف اس شخص کے اندر پیدا ہو سکتا ہے جو عقل سے بالکل عاری ہو۔
دوسرا پہلو اس کا وہی ہے جس کی طرف ہم سابق سورہ میں بھی اشارہ کر چکے ہیں اور جو قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے کہ انہی ستاروں کے اندر خدا نے ایسے برج بنائے ہیں جہاں سے ان شیاطین پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے جو خدا کے ممنوعہ حدود میں دراندازی کی جسارت کرتے ہیں۔ قدرت کا یہ انتظام اس بات پر شاہد ہے کہ یہ دنیا بے راعی کا گلہ نہیں ہے بلکہ اس کے چپہ چپہ پر خدا نے اپنے پہرہ دار بٹھا رکھے ہیں جو شب و روز ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں اس وجہ سے لازماً اس کے بعد ایک یوم الحساب آنا ہے جس کے احتساب سے کوئی بھی اپنے کو بچا نہ سکے گا۔