تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 86. At-Taariq · Ayah 5
فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ﴿5﴾
- فَلْيَنْظُرِچاہیے کہ دیکھے
- الْاِنْسَانُانسان
- مِمَّکس چیز سے
- خُلِقَپیدا کیا گیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
انسان غور کرے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انسان کا وجود خود شاہد ہے کہ خدا اس کو دوبارہ اٹھا سکتا ہے:
یہ اس احساس ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہر اس انسان کے اندر پیدا ہونا چاہیے جو اس حقیقت کو پا گیا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ اس کا خالق ایک ایک چیز پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور جب وہ نگاہ رکھے ہوئے ہے تو لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں نیکوں کے سامنے ان کی نیکی اور بدوں کے سامنے ان کی بدی اپنے حقیقی نتائج کی صورت میں بے نقاب ہو۔
’فَلْیَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ‘۔ یہ انسان کو خود اس کے وجود کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنی ہی خلقت پر غور کرے تو خدا کی قدرت، حکمت اور اس کی صفت گری کی ایسی شانیں ظاہر ہوں گی کہ وہ پکار اٹھے گا کہ جو خدا پانی کی ایک حقیر بوند سے اس کو ان اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کر سکتا ہے وہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ اٹھا سکنے پر بھی قادر ہے۔
جزا و سزا کے منکرین کا سب سے بڑا شبہ یہی تھا کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے کو بعید از امکان تصور کرتے تھے۔ ان کے اس شبہ کو دور کرنے کے لیے قرآن نے جگہ جگہ ان کو خود ان کی خلقت پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ سورۂ عبس میں اسی طرح کے لوگوں کو ان الفاظ میں تنبیہ فرمائی ہے:
قُتِلَ الْإِنۡسَانُ مَا أَکْفَرَہٗ ۵ مِنْ أَیِّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ ۵ مِنۡ نُّطْفَۃٍ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ۵ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ ۵ ثُمَّ أَمَاتَہٗ فَأَقْبَرَہٗ ۵ ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنۡشَرَہٗ (عبس ۸۰: ۱۷-۲۲)
’’انسان غارت ہو، کتنا ناشکرا ہے! اس کو خدا نے کس چیز سے پیدا کیا؟ پانی کی ایک بوند سے! اس کو پیدا کیا، پھر اس کے لیے ایک اندازہ ٹھہرایا، پھر اس کے لیے راہ آسان کی؛ پھر اس کو موت دی اور اس کو قبر میں رکھوایا۔ پھر جب چاہے گا اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔‘‘