تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 86. At-Taariq · Ayah 6
خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ﴿6﴾
- خُلِقَپیدا کیا گیا
- مِنْسے
- مَّآءٍپانی
- دَافِقٍاچھلتا ہوا
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ پیدا کیا گیا ہے ذرا سے اچھلتے پانی سے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ ۵ یَخْرُجُ مِنۡ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ‘۔ یہ اس پانی کی نوعیت، اس کے خروج کی صورت اور اس کی جگہ کے حدود اربعہ کی وضاحت فرما دی تاکہ انسان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ پانی نہ کوئی جوہر نایاب ہے اور نہ یہ کسی ایسی ولایت سے آتا ہے جو خدا کی خدائی کے حدود سے باہر ہو بلکہ انسان ہی کی ریڑھ اور اس کی چھاتیوں کے بیچ سے اچھلتا ہے اور قدرت اسی کو اپنے سانچے میں جس شکل و صورت پر چاہتی ہے ڈھالتی ہے اور پھر اس کو بطن مادر سے باہر لاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی اس عظیم قدرت و حکمت کا مشاہدہ ہر شخص خود اپنے وجود کے اندر کر رہا ہے کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ زندہ کرنا ناممکن ہو جائے گا! اسی حقیقت کی طرف سورۂ انفطار میں یوں توجہ دلائی ہے:
یٰٓاَیُّہَا الْإِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ ۵ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ فَعَدَلَکَ ۵ فِیْ أَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ۵ کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیْنِ (الانفطار ۸۲: ۶-۹)
’’اے انسان، تجھے تیرے اس رب کریم کے باب میں کس چیز نے مغالطے میں ڈال رکھا ہے؟ جس نے تیرا خاکہ بنایا، پھر تیرے نوک پلک سنوارے۔ اور تجھے بالکل ٹھیک ٹھاک کیا اور جس شکل پر چاہا تجھے مشکّل کر دیا! (اس خدا کی قدرت کے باب میں کسی شک کی گنجائش) ہر گز نہیں ہے لیکن تم جزا و سزا کو جھٹلانا چاہتے ہو (اس وجہ سے اس قسم کے شبہات ایجاد کر رہے ہو)۔‘‘