تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 87. Al-A'laa · Ayah 4
وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ﴿4﴾
- وَالَّذِيْٓاور جس نے
- اَخْرَجَنکالا (اگایا)
- الْمَرْعٰىچارا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جس نے نباتات اگائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک ادبی اشکال کا حل:
اس ٹکڑے میں ایک ادبی اشکال ہے اس کو پہلے سمجھ لیجیے تب اس کا صحیح موقع و محل واضح ہو گا۔
’غُثَآءً اَحْوٰی‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے کالا کوڑا یا سیاہ خس و خاشاک کیا ہے لیکن عربی میں لفظ ’غثاء‘ تو بے شک جھاگ اور خس و خاشاک کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن ’اَحْوٰی‘ ہرگز اس سیاہی کے لیے نہیں آتا جو کسی شے میں اس کی کہنگی، بوسیدگی اور پامالی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ اس سیاہی مائل سرخی یا سبزی کے لیے آتا ہے جو کسی شے پر اس کی تازگی، شادابی، زرخیزی اور جوش نمو کے سبب سے نمایاں ہوتی ہے۔ یہ نباتات اور باغوں کی صفت کے طور پر بکثرت استعمال ہوا ہے اور بلااستثنا ہر جگہ ان کی سرسبزی کی شدت اور گھنے پن کو ظاہر کرنے ہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ پھر یہیں سے بطور استعارہ یہ کڑیل، صحت مند گل تر کی صورت کھلے ہوئے جوان کے لیے بھی استعمال ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن کی صحت بہت اچھی اور ان کے بدن میں خون وافر ہو ان کے ہونٹوں پر سیاہی مائل سرخی نمایاں ہو جاتی ہے چنانچہ مشہور جاہلی شاعر، تابط شرا اپنے ممدوح کی تعریف میں کہتا ہے: ع
مسبل فی الحی احوی رفل
وَاِذا یغزوا فلیث ابل
(یوں قبیلہ کے اندر وہ ایک خوش پوش، سرخ و سپید بانکا چھبیلا بنا رہتا ہے لیکن جب میدان جنگ میں اترتا ہے تو شیر نیستاں بن جاتا ہے)
لفظ ’غُثَآءٌ‘ اگرچہ مکھن کے جھاگ اور سیلاب کے خس و خاشاک کے لیے بھی آتا ہے لیکن اس سبزہ کے لیے بھی اس کا استعمال معروف ہے جو زمین کی زرخیزی کے سبب سے اچھی طرح گھنا اور سیاہی مائل ہو گیا ہو۔ استاذ امام فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’مفردات القرآن‘‘ میں اس کی تائید میں شعرائے جاہلیت کے متعدد اشعار نقل کیے ہیں۔ ہم بقید اختصار صرف قطامی کا ایک شعر، جو اس نے ایک وادی کی تعریف میں کہا ہے، پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے:ع
حلوا باخضر قد مالت سرارتہ
من ذی غثاء علی الاعراض انضاد
(وہ ایک سرسبز و شاداب وادی میں اترے جس کے بیچ گھنے اور شاداب سبزے اس کے کناروں پر باہم دگر گتھم گتھا اور ایک دوسرے پر تہ بہ تہ گرے ہوئے تھے)
آیت زیربحث میں چونکہ ’غُثَآءٌ‘ کی صفت ’اَحْوٰی‘ آئی ہے اس وجہ سے لازماً یہ اس دوسرے معنی ہی میں استعمال ہوا ہے ورنہ صفت اور موصوف میں نہایت بھونڈی قسم کی بے ربطی پیدا ہو جائے گی اس لیے کہ ’اَحْوٰی‘ جیسا کہ ہم نے عرض کیا، اس سیاہی کے لیے ہرگز نہیں آتا جو کسی چیز میں اس کی کہنگی، فرسودگی اور پامالی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے۔ کلام عرب میں اس کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہاں موقع کلام بھی، جیسا کہ آگے وضاحت آ رہی ہے، اس مفہوم سے اباء کر رہا ہے۔
پس ’اَلَّذِیْ أَخْرَجَ الْمَرْعٰی فَجَعَلَہٗ غُثَآءً اَحْوٰی‘ کا صحیح مطلب یہ ہو گا کہ اس خداوند کی تسبیح کرو جو نباتات کو زمین سے نازک سوئیوں کی شکل میں نکالتا ہے پھر ان کو گھنی اور سیاہی مائل سرسبز و شاداب بناتا ہے۔