تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 87. Al-A'laa · Ayah 3
وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ﴿3﴾
- وَالَّذِيْاور جس نے
- قَدَّرَاندازہ ٹھہرایا
- فَهَدٰىپھر راہ دکھائی
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس نے مقدار کیا اور ہدایت بخشی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’قَدَّرَ فَہَدٰی‘ کا وسیع مفہوم:
یہی حال اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کے نشوونما اور اس کے مادی و عقلی عروج کمال کا بھی ہے۔ قدرت نے اس کی زندگی کو جن چیزوں کا محتاج بنایا ہے ان کے تقاضے بھی اس کے اندر رکھے مثلاً بچے کو دودھ کا محتاج بنایا ہے تو اس کی ماں کی چھاتی میں دودھ بھی پیدا کیا ہے اور پھر بچے کو یہ رہنمائی دی ہے کہ وہ ماں کی چھاتی کو چوسے اور اس سے اپنی غذا حاصل کرے۔
بعد کے ادوار میں جب اس کی ضروریات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو ہر ضرورت کے لیے زمین میں ذخیرے محفوظ ہیں۔ اور خالق نے انسان کو عقل دی ہے کہ وہ ان ذخائر کا سراغ لگائے ان کے حاصل کرنے کی راہیں کھولے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے طریقے ایجاد کرے۔
اسی طرح اس کی روحانی و اخلاقی ترقی کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر خیر و شر کا شعور ودیعت فرما دیا ہے اور پھر اس کی رہنمائی کے لیے اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا کہ وہ بتائیں اور سکھائیں کہ زندگی کا کون سا طریقہ اس کی فطرت کے تقاضوں کے مطابق اور اس کے اختیار کرنے میں اس کی فلاح ہے اور کون سا طریقہ اس کی فطرت سے بے جوڑ اور اس پر چلنے میں اس کی تباہی ہے۔
ولادت سے لے کر موت تک زندگی کے سارے مراحل و مقامات، تمام اطوار و ادوار اور جملہ امتحانات و عقبات بھی اللہ تعالیٰ نے مقدر فرما دیے ہیں جو لازماً پیش آ کے رہتے ہیں۔ پھر ان سے عہدہ برآ ہونے کا طریقہ بھی اس نے بتا دیا ہے۔ اگر انسان وہ طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کا سفینۂ حیات ہر منجدھار سے سلامتی کے ساتھ گزر جاتا ہے اور اگر وہ اس سے ہٹ کر اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ جاتا ہے تو یہ چیز اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔۔۔ ’اَلَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدٰی‘ کے دو لفظوں کے اندر یہ تمام معانی مضمر ہیں اور ان کی تفصیل بہت طویل ہے جس کو سمیٹنا ممکن نہیں ہے۔ سورۂ طٰہٰ کی آیت ۵۰: ’قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْٓ أَعْطٰی کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی‘ کے تحت بھی ہم اسی مضمون کی وضاحت کر چکے ہیں۔