Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 13

  1. فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ﴿13﴾

    1. فَصَبَّپس ڈالا
    2. عَلَيْهِمْان پر
    3. رَبُّكَتمہارا رب
    4. سَوْطَکوڑا
    5. عَذَابٍعذاب
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو تیرے خداوند نے ان پر عذاب کے کوڑے برسائے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قوموں کے باب میں سنت الٰہی: ’فَصَبَّ عَلَیْْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ‘۔ یہ اس فساد کے غلبہ کا انجام بیان ہوا ہے کہ جب ان کے ہر شعبۂ زندگی میں فساد سرایت کر گیا تو اس کا قدرتی انجام ان کے سامنے اس شکل میں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب کے کوڑے برسا دیے۔ یہ عذاب جن جن شکلوں میں آیا اس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ جب کسی قوم کو اپنی زمین میں اقتدار و اختیار بخشتا ہے تو اس کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ نہیں دیا کرتا بلکہ وہ اس کی نگرانی کرتا رہتا ہے کہ وہ اس اقتدار کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ اس کو خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر استعمال کرتی ہے تو اس کو اس سے بہرہ مند ہونے کی سعادت حاصل ہوتی ہے اور اگر وہ طغیان میں مبتلا ہو کر خدا کے حدود سے باہر نکل جاتی ہے تو اس کو اصلاح یا اتمام حجت کے لیے ایک خاص حد تک مہلت ملتی ہے۔ اگر اس مہلت سے وہ فائدہ نہیں اٹھاتی بلکہ اس کا طغیان و فساد بڑھتا ہی جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فنا کر دیتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا وجود نہ خود اس کے لیے نافع رہ جاتا نہ دوسروں کے لیے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ بالکل اٹل ہوتا ہے۔ جب یہ صادر ہو جاتا ہے تو کوئی قوم، خواہ وہ کتنے ہی وسائل و ذرائع کی مالک ہو، نہ اس کی راہ روک سکتی نہ اس کا رخ ہی بدل سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی قوموں کو ان کے دور عروج میں پکڑا اور پکڑ کر اس طرح مسل دیا کہ ان کا نام و نشان ہی صفحۂ دہر سے مٹ گیا۔