تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 14
اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ﴿14﴾
- اِنَّ رَبَّكَبیشک تمہارا رب
- لَبِالْمِرْصَادِگھات میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک تیرا خداوند گھات میں رہتا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
خلاصۂ بحث:
یہ ان تمام قَسموں کا جو سورہ کی تمہید میں آئی ہیں اور ان تاریخی سرگزشتوں کا جن کی طرف اوپر اشارہ فرمایا ہے، خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے۔ گویا موقع و محل اور مدعا کے اعتبار سے اس آیت کو سورہ میں مقسم علیہ کی حیثیت حاصل ہے جس کی تائید آفاق کے آثار بھی کر رہے ہیں اور تاریخ کے واقعات بھی۔
’مِرْصَادٌ‘ گھات لگانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آفاق اور تاریخ دونوں کے شواہد اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کائنات کا خالق اس کو پیدا کر کے اس سے الگ تھلگ نہیں جا بیٹھا ہے بلکہ اس کی نگاہ ایک ایک چیز کی نگرانی کر رہی ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اس سے اوجھل ہو سکے۔ ہر چیز کی باگ اس کے ہاتھ میں ہے۔ اگر کوئی قوم طغیان کی روش اختیار کرتی ہے تو وہ اس کو مہلت تو ضرور دیتا ہے لیکن اس کی ایک خاص حد تک مقرر ہوتی ہے جس کو لانگنے کی اجازت وہ نہیں دیتا۔ کوئی قوم اگر اس کو لانگنے کی جسارت کرتی ہے تو وہ فوراً اس کو دھر لیتا ہے اور پھر کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس کی گرفت سے چھوٹ سکے۔
یہ صورت حال اس امر کی نہایت واضح دلیل ہے کہ یہ دنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے بلکہ ایک حکیم و قدیر کا بنایا ہوا، ایک بامقصد و باغایت کارخانہ ہے۔ اس کی ایک ایک چیز کے ساتھ اس کے خالق کو جو تعلق ہے اور اس کے اندر قوموں کے عزل و نصب کا جو ضابطہ اس نے جاری کر رکھا ہے وہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک روز جزا و سزا ہے جو لازماً ظہور میں آئے گا اور اس دن ہر شخص جس نے اپنی زندگی اپنے رب کے احکام کے تحت گزاری اپنے رب کی خوشنودی سے نوازا جائے گا اور جس نے اس کو ایک بازیچۂ اطفال سمجھ کر اس میں فساد مچایا وہ اپنے کیے کی سزا بھگتے گا۔