Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 17

  1. كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ﴿17﴾

    1. كَلَّاہرگز نہیں
    2. بَلْبلکہ
    3. لَّا تُكْرِمُوْنَعزت نہیں کرتے
    4. الْيَتِيْمَیتیم
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیموں کی قدر نہیں کرتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مغالطہ کا ازالہ: اوپر بات اصولی رنگ میں فرمائی ہے لیکن ان آیات میں مکہ اور طائف کے مال داروں کو براہ راست خطاب کر کے تنبیہ کی گئی ہے کہ تمہارا یہ گمان بالکل بے بنیاد ہے کہ جس کو مال کی فراوانی حاصل ہوتی ہے یہ اس کی عزت افزائی کی دلیل ہے۔ یہ عزت افزائی کے لیے نہیں بلکہ امتحان کے لیے ہوتی ہے کہ وہ خدا کی بخشی ہوئی نعمت پا کر اپنی عزت کے پندار میں مبتلا ہو جاتا ہے یا اس کو یتیموں، مسکینوں کی خدمت اور ان کے اکرام و تواضع کا ذریعہ بناتا ہے۔ یہ محض تمہاری سفاہت ہے کہ تم خدا کے فضل و احسان کا بالکل الٹا مفہوم لیتے ہو۔ ہونا تو یہ تھا کہ تم اپنے رب کے شکر گزار بنتے، یتیموں اور مسکینوں کی خدمت خود بھی کرتے اور دوسروں کو بھی اس پر ابھارتے لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنی عزت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر یتیموں کو حقیر سمجھتے اور مسکینوں کی مدد سے جی چراتے ہو۔ سوسائٹی میں یتیموں کا مقام: یتیموں کے لیے یہاں لفظ ’اکرام‘ استعمال ہوا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مطلوب صرف یہ نہیں ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں مال دار لوگ ان کی کچھ مدد کر دیا کریں بلکہ اصل مطلوب یہ ہے کہ سوسائٹی میں ان کو عزت کا مقام حاصل ہو۔ وہ دھکے کھاتے نہ پھریں بلکہ جہاں بھی جائیں لوگ ان کو احترام سے دیکھیں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ خدا نے ان کو جو مال عطا فرمایا ہے اس کی کوئی وقعت خدا کے ہاں ہے تو اسی شکل میں ہے جب یتیموں کی خدمت کر کے ان کا مال اپنے لیے شرف کا مقام پیدا کرے۔ ورنہ وہ شرف کا ذریعہ نہیں بلکہ وبال اور رسوائی ہے۔