Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 23

  1. وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ﴿23﴾

    1. وَجِايْٓءَاور لائی جائے
    2. يَوْمَئِذٍۢاس دن
    3. بِجَهَنَّمَجہنم میں
    4. يَوْمَئِذٍاس دن
    5. يَّتَذَكَّرُسوچے گا
    6. الْاِنْسَانُانسان
    7. وَاَنّٰى لَهُاور کہاں اس کیلئے
    8. الذِّكْرٰىسوچنا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جہنم حاضر کی جائے گی۔ اس دن انسان سوچے گا مگر کیا حاصل اس سوچنے کا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَجِایْٓءَ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنۡسَانُ وَأَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ظہور کے ساتھ وہ جنت اور دوزخ بھی بے نقاب کر دی جائیں گی جو جزا اور سزا کے لیے پہلے سے تیار ہیں۔ سورہ میں اصل خطاب چونکہ معاندین سے ہے اس وجہ سے پہلے جہنم کا ذکر فرمایا کہ وہ لائی جائے گی۔ اس کو دیکھتے ہی وہ سارے لوگ، جو آخرت سے بے پروا رہے اپنی محرومی پر سر پیٹ لیں گے اور حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ کر لیا ہوتا۔ فرمایا کہ یہ چیز پہلے ہی سونچنے اور کرنے کی تھی۔ جب وہ یہاں اس کو نہ چیت سکیں گے تو اتنی دور جا کر وہ اس کو چیتیں گے تو اس سے حسرت کے سوا اور کیا حاصل ہو گا!