Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 24

  1. یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ﴿24﴾

    1. يَقُوْلُکہے گا
    2. يٰلَيْتَنِيْاے کاش
    3. قَدَّمْتُمیں نے پہلے بھیجا ہوتا
    4. لِحَيَاتِيْاپنی زندگی کیلئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہے گا، کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ رکھا ہوتا ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنۡسَانُ وَأَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ظہور کے ساتھ وہ جنت اور دوزخ بھی بے نقاب کر دی جائیں گی جو جزا اور سزا کے لیے پہلے سے تیار ہیں۔ سورہ میں اصل خطاب چونکہ معاندین سے ہے اس وجہ سے پہلے جہنم کا ذکر فرمایا کہ وہ لائی جائے گی۔ اس کو دیکھتے ہی وہ سارے لوگ، جو آخرت سے بے پروا رہے اپنی محرومی پر سر پیٹ لیں گے اور حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ کر لیا ہوتا۔ فرمایا کہ یہ چیز پہلے ہی سونچنے اور کرنے کی تھی۔ جب وہ یہاں اس کو نہ چیت سکیں گے تو اتنی دور جا کر وہ اس کو چیتیں گے تو اس سے حسرت کے سوا اور کیا حاصل ہو گا! ’یَقُوْلُ یَا لَیْْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ‘۔ یہ وضاحت ہے اس چیتنے کی جس کی طرف اوپر والی آیت میں ’یَتَذَکَّرُ الْإِنۡسَانُ‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے کہ اس دن وہی لوگ جو آج قیامت سے آگاہ کرنے والوں کو بے وقوف ٹھہرا رہے ہیں نہایت حسرت و اندوہ کے ساتھ کہیں گے کہ کاش، اپنی اس زندگی کے لیے ہم نے دنیا کی زندگی میں کچھ کر لیا ہوتا! مطلب یہ ہے کہ وہ اس دن حسرت تو کریں گے لیکن ان کی یہ حسرت بے سود رہے گی۔ اس کی تلافی کا وقت گزر چکا ہو گا۔