Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 3

  1. وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ﴿3﴾

    1. وَّالشَّفْعِاور جفت کی
    2. وَالْوَتْرِاور طاق کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جفت و طاق
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’جفت‘ اور ’طاق‘ سے مراد: ’وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ‘۔ ’شَفْعٌ‘ کے معنی جفت اور ’وَتْرٌ‘ کے معنی طاق کے ہیں۔ جفت اور طاق سے کیا مراد ہے؟ اس کے جواب میں مفسرین سے اتنے اقوال منقول ہیں کہ ان کا استقصاء مشکل ہے۔ اقوال کی اس کثرت کی وجہ ہمارے نزدیک وہی ہے کہ لوگوں نے نظم کلام اور سیاق و سباق کو پیش نظر رکھنے کے بجائے ساری توجہ صرف اس امر پر مرکوز رکھی کہ کسی مقدس چیز کو ان الفاظ کا مصداق بنائیں۔ حالانکہ اگر نظر شہادت کے پہلو پر ہوتی تو غور کرنے اور صحیح نتیجہ تک پہنچنے کی آسان راہ یہ تھی کہ ان مقامات پر نظر ڈالی جاتی جہاں قرآن نے ہر شے کے جوڑے جوڑے پیدا کیے جانے کا ذکر کیا ہے اور اس سے حکمت کے نہایت اہم حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے، مثلاً فرمایا ہے: ’وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ‘ (الذاریات ۵۱: ۴۹) (اور ہم نے ہر چیز کے اندر سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو)۔ ہر جوڑا دو طاقوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ ہر چیز ایک پہلو سے طاق ہے اور دوسرے پہلو سے جفت۔ اس امر واقعی کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن نے اس کائنات کے متعدد جوڑوں۔۔۔ زمین و آسمان، ظلمت و نور، دھوپ اور چھاؤں، نر اور مادہ۔۔۔ کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس سے نہایت اہم نتائج کی، جیسا کہ ’لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ‘ سے اشارہ نکلتا ہے یاددہانی فرمائی ہے، مثلاً اس حقیقت کی یاددہانی کہ جب ہر چیز اپنے وجود کے اندر ایک ایسا خلا رکھتی ہے جو اس جوڑے سے مل کر ہی بھرتا ہے، اس کے بغیر وہ اپنی غایت کو نہیں پہنچتی تو لازماً ایک ایسی کامل الوجود اور ہر نقص سے پاک ہستی ان اجزائے مختلفہ سے بالاتر موجود ہے جس کی حکمت و قدرت ان کے اندر ربط و اتصال اور سازگاری و بہم آمیزی پیدا کرتی اور ان کو باغایت و بامقصد بناتی ہے۔ اس ہستی کا اپنے وجود میں کامل اور ہر نقص سے پاک ہونا لازمی ہے۔ اگر اس میں کوئی کمی ہو گی تو وہ اپنے سے بالاتر کی محتاج بن جائے گی اور یہ سلسلہ کہیں منقطع نہیں ہو گا۔ دوسرے اس حقیقت کی یاددہانی کہ ہماری یہ دنیا بھی بحیثیت مجموعی اپنے وجود کے اندر اسی طرح ایک خلا رکھتی ہے جس طرح اس کے تمام اجزائے مختلفہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور یہ خلا اس وقت تک نہیں بھرتا جب تک اس کے ساتھ آخرت کو نہ مانیے۔ اس کو نہ مانیے تو یہ دنیا ایک حکیم کا بنایا ہوا کارخانہ نہیں بلکہ ایک کھلنڈرے کا کھیل اور نہایت ظالمانہ کھیل بن کے رہ جاتی ہے۔ جفت و طاق کا ذکر دس راتوں کے ذکر کے بعد آیا ہے اور دس راتیں ہمارے نزدیک چاند کے عروج و محاق کی ہیں جو اس حقیقت کی شہادت دیتی ہیں کہ ہر چیز کی باگ اللہ وحدہٗ لاشریک کے ہاتھ میں ہے اس لیے کہ بعض مہینوں میں یہ راتیں جفت ہوتی ہیں بعض میں طاق لیکن کسی کے امکان میں نہیں کہ وہ جفت کو طاق یا طاق کو جفت بنا دے خواہ اس کی کتنی ہی تمنا رکھتا ہو۔ عید کے چاند کے لیے لوگ نہ جانے کیا کیا جتن کرتے ہیں کہ انتیس کو نظر آ جائے لیکن وہ تعمیل اپنے رب ہی کے حکم کی کرتا ہے، لوگوں کے جذبۂ شوق اور جوش استقبال کی اسے ذرا پروا نہیں ہوتی۔