Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 4

  1. وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ﴿4﴾

    1. وَالَّيْلِاور رات کی
    2. اِذَا يَسْرِجب چلے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور رات جب وہ چل کھڑی ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رات کی شہادت: یہ آخر میں رات کی شہادت پیش کی ہے اور اس کے ساتھ ’اِذَا یَسْرِ‘ کی قید ہے۔ یعنی خاص طور پر اس کے اس وقت کی طرف توجہ دلائی ہے جب وہ رخصت ہونے کے لیے چل کھڑی ہوتی ہے اور افق میں فجر کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اس پر قرآن کے نظائر کی روشنی میں غور کیجیے، تو یہ نہایت اہم حقائق کی یاددہانی کرتی ہے۔ ایک تو اس حقیقت کی یاددہانی کہ اس کائنات کے تمام عناصر مختلفہ خالق کائنات کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ رات آتی ہے تو بظاہر اس کا تسلط ایسا ہمہ گیر ہوتا ہے کہ کسی طرف سے دن کے نمودار ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا لیکن بالآخر اس تاریکی کے اندر سے ایک سفید دھاری مشرق سے نمایاں ہونی شروع ہوتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ رات پر اس طرح چھا جاتی ہے کہ سورج نمودار ہو جاتا ہے اور ظلمت شب کو اپنا بوریا بستر سنبھالنا پڑتا ہے۔ رات کے بس میں یہ نہیں ہے کہ اس کی راہ روک کر کھڑی ہو جائے۔ دوسری یہ کہ رات کے رخصت ہونے اور دن کے جلوہ نما ہونے میں ان لوگوں کے لیے ظہور قیامت کی ایک تمثیل ہے جو قیامت کو بعید از امکان سمجھتے ہیں۔ اس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ تیسری ان لوگوں کو، جو قیامت کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر یہ آنے والی ہے بھی تو ابھی اتنی دور ہے کہ اس کا خوف ذہنوں پر مسلط کر لینا کوئی دانش مندی نہیں، اس حقیقت کی یاددہانی کہ خدا کے ہاں یہ دنیا اپنے انجام کے اسی طرح قریب آ لگی ہے جس طرح سحر کے وقت بس اتنی سی کسر رہ جاتی ہے کہ کب سپیدۂ صبح نمودار ہو اور رات کی گیرائی ختم ہو جائے۔ انسان اس معاملہ کو اپنی محدود نظر سے دیکھتا اور اپنے منٹ سیکنڈ کے پیمانے ناپتا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس دنیا پر جو نہیں معلوم کب سے انسان و حیوان، چرند و پرند سب کو ایک گہوارہ مہیا کیے ہوئے ہے، کوئی ایسی آفت آ سکتی ہے جو اس کے نظام ہی کو تہ و بالا کر کے رکھ دے۔ لیکن خدا کے نظام میں صورت حال بالکل مختلف ہے، وہ قیامت کو دنیا کے پشت پا پر دیکھ رہا ہے۔ اس کے پیمانوں کے لحاظ سے قیامت بس آیا ہی چاہتی ہے۔ اسی حقیقت کو نبی ﷺ نے یوں فرمایا ہے کہ میں اور قیامت ساتھ ساتھ کی دو انگلیوں کی طرح ہیں۔ علاوہ ازیں ’اِذَا یَسْرِ‘ کے الفاظ کے اندر ایک لطیف شہادت بھی ہے کہ کسی آزمائش کو بھی ایسی بلا نہ سمجھو جو کبھی جان چھوڑے گی ہی نہیں، اس دنیا میں جس طرح فجر کا طلوع ہونا اور رات کا آنے کے بعد چلا جانا مشاہدہ کرتے ہو اور دیکھتے ہو کہ قدرت ان میں سے کسی کو بھی اس سے زیادہ ٹکنے کا موقع نہیں دیتی جتنا اس کی دنیا کی مصلحت کے لیے ضروری ہے اسی طرح یُسر اور عُسر، رنج اور راحت کی صورت میں جو آزمائشیں پیش آتی ہیں وہ بھی انسان کی ذہنی و اخلاقی تربیت کے لیے پیش آتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو بس اتنی ہی دیر کے لیے مہلت دیتا ہے جتنی بندے کی تربیت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ انسان کو ان میں سے نہ کسی سے مایوس ہونا چاہیے نہ مفرور، بلکہ ان کا مواجہہ صبر اور شکر کے ساتھ کرنا چاہیے اور یہ امید رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر آزمائش میں اس کے لیے خبر مضمر ہے۔ آیات ۱ تا ۴ پر مزید غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’وَالْفَجْرِ‘ اور ’وَاللَّیْلِ إِذَا یَسْرِ‘ کی دونوں قَسمیں دو متقابل چیزوں کی ہیں اور بیچ کی دو قَسموں۔۔۔ ’وَلَیَالٍ عَشْرٍ‘ اور ’وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ‘۔۔۔ کا تعلق ان دو متقابل چیزوں کے درمیان کی دو عظیم نشانیوں سے ہے جو اس دعوے پر دلیل ہیں جس کی طرف ہم نے آغاز فصل میں اشارہ کیا ہے۔ چونکہ ان آیات میں بنیادی حیثیت پہلی اور آخری دو قَسموں کو حاصل ہے، باقی دو قسموں کی حیثیت ان کے توابع کی ہے، اس لیے بحث کی تکمیل کے لیے ہم ان دعاوی کی یاددہانی بھی ضروری سمجھتے ہیں جن پر قرآن نے رات اور دن، صبح اور شام، تاریکی اور روشنی کے تضادات سے استدلال کیا ہے۔ اضداد کی شہادت:۔۔۔ ان اضداد سے پہلی دلیل تو قرآن نے توحید پر قائم کی ہے اور جگہ جگہ یہ دکھایا ہے کہ یوں بظاہر تو یہ دنیا اپنے ہر گوشے میں اضداد کی ایک رزم گاہ ہے جس کا فطری نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ یہ وجود میں آ ہی نہیں سکتی اور آ بھی جاتی تو فوراً درہم برہم ہو جاتی لیکن تدبر و تفکر کی نظر سے دیکھیے تو یہ حقیقت بالکل روشن ہے کہ ان اضداد کے اندر باہم دگر نہایت گہری موافقت و سازگاری ہے۔ اسی کا یہ کرشمہ ہے کہ اس کے متضاد عناصر باہمی تفاعل و تعاون سے نہایت صالح نتائج پیدا کرتے ہیں جو اس کے قیام و بقا کا ذریعہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان اضداد میں یہ توافق کون پیدا کرتا ہے؟ اس کا واحد صحیح جواب یہی ہو سکتا ہے کہ ایک علیم و خبیر، حکیم و بصیر اور قوی و مقتدر ہستی ان اضداد سے بالاتر ہے جو ان کو باہم دگر جوڑتی، ایک حکیمانہ تناسب سے ان میں باہم تالیف و امتزاج پیدا کرتی اور پھر ان سے وہ صالح نتائج وجود میں لاتی ہے جو اس دنیا کے قیام و بقا کا ذریعہ ہیں۔ اور لازماً وہ ایک ہی ہے اس لیے کہ اگر دوسرے ارادے بھی اس کی مزاحمت کرنے والے موجود ہوتے تو یہ دنیا تباہ ہو جاتی۔ ’لَوْ کَانَ فِیْہِمَا آلِہَۃٌ إِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا‘ (الانبیآء ۲۱: ۲۲)۔ ۔۔۔ دوسری دلیل اس سے قرآن نے قیامت پر قائم فرمائی ہے۔ مختصر الفاظ میں وہ یوں ہے کہ اس دنیا میں اس کے خالق نے ہر چیز جوڑے جوڑے پیدا کی ہے اور ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر ہی اپنی غایت کو پہنچتی ہے۔ بغیر اس کے کہ نہ وہ اپنی غایت کو پہنچتی اور نہ اس کے بدون اس کے وجود کی کوئی معقول توجیہ ہو سکتی بلکہ اس کے اندر ایسا خلا محسوس ہوتا ہے کہ ایک عاقل مجبور ہو جاتا ہے کہ اس پر وہ ایک کارعبث ہونے کا حکم لگائے۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہی حکم اس دنیا پر بھی لگ سکتا ہے اگر اس کے ساتھ آخرت کو نہ ملائیے کیونکہ اس کے اندر ایک ایسا خلا رہ جاتا ہے جو آخرت کو مانے بغیر کسی طرح بھی نہیں بھرتا۔ اس میں نیکی اور بدی، عدل اور ظلم میں ہر وقت جو کشمکش برپا ہے اس کا فطری مطالبہ یہ ہے کہ اس کے لیے ایک ایسا روز انصاف آئے جس میں اس کا خالق پورے اقتدار، کامل علم اور کامل عدل کے ساتھ لوگوں کا محاسبہ کرے، پھر اپنے اچھے بندوں کو صلہ دے اور وہ لوگ اپنے کیفر کردار کو پہنچیں جنھوں نے اس کی دنیا میں دھاندلی مچائی۔ اگر اس کے بغیر یہ دنیا یوں ہی چلتی رہے، ایک دن یوں ہی ختم ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کے خالق کے نزدیک خیر اور شر، نیک اور بد دونوں یکساں ہیں اور اس کا پیدا کیا جانا کوئی حکیمانہ فعل نہیں بلکہ ایک کارعبث اور کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے۔ چنانچہ اسی بنا پر قیامت کے جھٹلانے والوں کے سامنے یہ سوال رکھا گیا ہے کہ ’أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۵ مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوۡنَ‘ (القلم ۶۸: ۳۵-۳۶) (کیا ہم اپنے اطاعت شعار بندوں اور مجرموں کو یکساں کر دیں گے، تم کو کیا ہو گیا ہے، کیسے بے عقلی کے فیصلے کرتے ہو!) اس مسئلہ پر سورہ مدثر کی آیات قسم کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ ۔۔۔ تیسری حقیقت اس سے اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمائی ہے کہ جس طرح انسان کے مادی وجود کی بقا کے لیے دن کی روشنی اور حرارت بھی ضروری ہے اور رات کی خنکی اور تاریکی بھی، اسی طرح اس کی اخلاقی و روحانی تربیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ یُسر و عُسر، تنگی و فراخی، صحت اور مرض کی آزمائشوں سے گزارا جائے تاکہ اس کے صبر و شکر کی تربیت ہو اور وہ ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کا مقام حاصل کرنے کا اہل بنے۔ قرآن میں یہ حکمت جگہ جگہ بیان ہوئی ہے۔ آگے اس سورہ میں بھی اس کی وضاحت آ رہی ہے اور خدا نے چاہا تو ہم سورۂ ضحیٰ میں ’وَالضُّحٰی ۵ وَاللَّیْلِ إِذَا سَجٰی‘ (۲-۱) کے تحت بھی اس مسئلہ پر بحث کریں گے۔ ۔۔۔ چوتھی حقیقت ان سے یہ واضح فرمائی گئی ہے کہ ان اضداد میں سے کسی کو بھی خدا نے بگٹٹ نہیں چھوڑا ہے بلکہ ہر ایک کی باگ اس کے ہاتھ میں ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی اپنے حدود سے سرمو تجاوز کر سکے۔ وہ خود اپنے وجود سے شہادت دیتے ہیں کہ وہ آزاد نہیں بلکہ خلق کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ رات آتی ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ڈیرے ڈال دے اور خلق کو دن کی روشنی اور آفتاب کی حرارت سے محروم رکھے بلکہ ایک مقررہ وقت کے اندر، منٹ اور سیکنڈ کی پابندی کے ساتھ لازماً اسے اپنے ڈیرے اٹھانے اور دن کی روشنی کے لیے جگہ خالی کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح سورج طلوع ہوتا ہے تو اسے بھی لازماً متعین گھنٹوں کے بعد افق سے غائب ہونا پڑتا ہے، وہ یہ نہیں کر سکتا کہ ہمیشہ کے لیے ہمارے سروں پر مسلط ہو جائے، شب کی خنکی اور اس کے سکون سے ہمیں محروم کر دے۔ یہ مشاہدہ ہر شخص کرتا ہے اور یہ بدیہی شہادت ہے اس بات کی کہ اس کائنات کی ہر چیز خدا کے کنٹرول میں ہے، وہی اس کو کھولتا بھی ہے اور وہی باندھتا بھی ہے۔ اس سے یہ بدیہی نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ کسی کو بھی، خواہ وہ کتنا ہی زور و اثر رکھنے والا ہو، خدا کی ڈھیل سے اس گھمنڈ میں نہیں پڑنا چاہیے کہ وہ اس کی گرفت سے باہر ہے۔ جب سورج اور چاند، رات اور دن اس کے کنٹرول سے باہر نہیں تو انسان کی کیا حقیقت ہے کہ وہ اپنے کو اس کے حیطۂ اقتدار سے باہر سمجھے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے۔ سورۂ قصص میں اس کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے: قُلْ أَرَءَ یْتُمْ اِنۡ جَعَلَ اللہُ عَلَیْْکُمُ اللَّیْلَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلٰہٌ غَیْرُ اللہِ یَأْتِیْکُم بِضِیَآءٍ أَفَلَا تَسْمَعُوْنَ ۵ قُلْ أَرَءَ یْتُمْ اِنۡ جَعَلَ اللہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلٰہٌ غَیْرُ اللہِ یَأْتِیْکُم بِلَیْْلٍ (القصص ۲۸: ۷۱-۷۲) ’’کہہ دو، بتاؤ اگر اللہ تم پر قیامت تک برابر رات ہی مسلط کیے رکھے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے ذرا سی روشنی لا سکے! تو کیا تم سنتے نہیں!! پوچھو، اگر اللہ تمہارے اوپر دن کو برابر قیامت تک کے لیے مسلط کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے ایک ہی رات لا سکے۔‘‘ اس سورہ کی قَسموں میں، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، یہ پہلو زیادہ نمایاں ہے اس وجہ سے اس کو خاص طور پر نگاہ میں رکھیے۔