Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 109

  1. اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴿109﴾

    1. اَفَمَنْسو کیا وہ جو
    2. اَسَّسَبنیاد رکھی اس نے
    3. بُنْيَانَهٗاپنی عمارت
    4. عَلٰيپر
    5. تَقْوٰىتقوی (خوف)
    6. مِنَ اللّٰهِاللہ سے
    7. وَرِضْوَانٍاور خوشنودی
    8. خَيْرٌبہتر
    9. اَمْیا
    10. مَّنْجو۔ جس
    11. اَسَّسَبنیاد رکھی
    12. بُنْيَانَهٗاپنی عمارت
    13. عَلٰيپر
    14. شَفَاکنارہ
    15. جُرُفٍکھائی
    16. ھَارٍگرنے والا
    17. فَانْهَارَسو گر پڑی
    18. بِهٖاسکو لے کر
    19. فِيْمیں
    20. نَارِ جَهَنَّمَدوزخ کی آگ
    21. وَاللّٰهُاور اللہ
    22. لَا يَهْدِيہدایت نہیں دیتا
    23. الْقَوْمَلوگ
    24. الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا وہ بہتر ہے جس نے اپنی تعمیر کی بنیاد اللہ کے تقوی اور اس کی خوشنودی پر رکھی یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک کھوکھلی گرتی ہوئی کگر پر اٹھائی پس وہ اس کے سمیت دوزخ میں بیٹھ گئی ؟ اور اللہ ظالموں کو راہ یاب نہیں کرے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۔ شَفا کسی چیز کے کنارے اور اس کی دھار کو کہتے ہیں۔ جرف، ندیوں، نالوں اور وادیوں میں دیکھا ہوگا کہ بعض اوقات پانی کا زور کسی کنارے کے نیچے سے مٹی بہا لے جاتا ہے، اور چھجے کی طرح صرف کنارہ لٹکا رہ جاتا ہے۔ اس طرح کی کھوکھلی اور بےثبات کگر کو عربی میں جرف کہتے ہیں۔ ھار، یہور ھورا سے ہے، ھار البناء کے معنی عمارت پھٹ کر مائل بہ سقط ہے، اسی کا فاعل ھائر بھی آتا ہے اور قلب ہو کر ھار بھی آتا ہے۔ جس طرح شائک السلاح اور شاکی الملاح دونوں آتا ہے۔ یہ تمثیل بیان ہوئی ہے ان لوگوں کی جو اپنے عمل کی بنیاد تقوی اور رضائے الٰہی کے بجائے کسی غرض فاسد پر رکھتے ہیں۔ فرمایا کہ ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص اپنی عمارت ایک کھوکھلی، گرتی ہوئی کگر پر بنائے جو بالآخر اس کے سمیت جہنم میں جا گرے۔ ثبات وقرار اور اخروی فوز و فلاح صرف اسی عمل کے حصہ میں ہے جو اللہ کی خوشنودی کے لیے اللہ کے احکام کے مطابق کیا جائے۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ، ہدایت میاں غایت و مقصود کی ہدایت کے معنی میں ہے یعنی اپنی جانوں پر اس طرح ظلم کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بامراد وفائز المرام نہیں کرے گا۔ یہ نامراد ہی رہیں گے۔