تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 110
لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿110﴾
- لَا يَزَالُہمیشہ رہے گی
- بُنْيَانُھُمُان کی عمارت
- الَّذِيْجو کہ
- بَنَوْابنیاد رکھی
- رِيْبَةًشک
- فِيْمیں
- قُلُوْبِهِمْان کے دل
- اِلَّآمگر
- اَنْ تَقَطَّعَیہ کہ ٹکڑے ہوجائیں
- قُلُوْبُھُمْان کے دل
- وَاللّٰهُاور اللہ
- عَلِيْمٌجاننے والا
- حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ان کے ان کے دلوں میں شک کی بنیاد بن کر جمی رہے گی الا آنکہ ان کے دل ہی پاش پاش ہوجائیں اور اللہ علیم و حکیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لَا يَزَالُ بُنْيَانُھُمُ الَّذِيْ بَنَوْا رِيْبَةً فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ یعنی یہ نام نہاد مسجد بنا کر ان منافقین نے اپنے اندر نفاق کی جڑ اتنی مستحکم کردی ہے کہ اب یہ ان کے دلوں کے ساتھ ہے۔ ان کا نفاق اس طرح ایک ایک رگ میں جڑ جما چکا ہے کہ اب اس کو اکھاڑن دلوں کے پاش پاش ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ جس طرح ہم اپنے محاورے میں کہتے ہیں یہ داغ تو اب کپڑے کے ساتھ ہی جائے گا۔ اسی طرح اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ تعلیق بالمحال کا ایک خوب صورت پیرایہ بیان ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عمل عمل کے اثرات و نتائج میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یوں تو نفاق کا ہر عمل اپنے اندر زہریلے اثرات رکھتا ہے لیکن مسجد ضرار جیسا فتنہ کھڑا کردینا ایک ایسا عمل ہے جس کے نتائج و اثرات سے جان چھڑانے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہتا۔ یہ رگ و پے میں جاری وساری ہوجاتا ہے۔