Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 41

Tafseer
  1. اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿41﴾

    1. اِنْفِرُوْاتم نکلو
    2. خِفَافًاہلکا۔ ہلکے
    3. وَّثِقَالًااور (یا) بھاری
    4. وَّجَاهِدُوْااور جہاد کرو
    5. بِاَمْوَالِكُمْاپنے مالوں سے
    6. وَاَنْفُسِكُمْاور اپنی جانوں
    7. فِيْمیں
    8. سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کی راہ
    9. ذٰلِكُمْیہ تمہارے لیے
    10. خَيْرٌبہتر
    11. لَّكُمْتمہارے لیے
    12. اِنْاگر
    13. كُنْتُمْتم ہو
    14. تَعْلَمُوْنَجانتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اٹھو، معمولی سامان کے ساتھ بھی اور بھاری سامان کے ساتھ بھی، اور اپنے مال اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
جہاد میں سروسامان کی کمی کوئی عذر نہیں ہے۔ اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ خفاف، خفیف کی اور ثقال، ثقیل کی جمع ہے۔ یہاں خفیف کا لفظ اس شخص کے لیے استعمال ہوا ہے جس کے پاس عسرت کے سبب سے زیادہ سروسامان جنگ اور زاد سفر نہ ہو۔ ثقیل جس کا حال اس کے برعکس ہو، یعنی وہ سروسامان سے بھرپور اور اسلحہ سے لیس ہو۔ مطلب یہ ہے کہ سروسامان کی کمی کو، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، جہاد سے غیر حاضری کے لیے عذر اور بہانہ نہ بناؤ۔ جو سروسامان بھی میسر آسکے، کم یا زیادہ، اس کو فراہم کر کے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔ اس کی سعادتوں اور برکتوں کی بھی کوئی حد و نہایت نہیں ہے اور بصورت محرومی اس کے خسران کی بھی کوئی انتہا نہیں ہے۔