Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 42

Tafseer
  1. لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ع﴿42﴾

    1. لَوْاگر
    2. كَانَہوتا
    3. عَرَضًامال (غنیمت)
    4. قَرِيْبًاقریب
    5. وَّسَفَرًااور سفر
    6. قَاصِدًاآسان
    7. لَّاتَّبَعُوْكَتو آپ کے پیچھے ہولیتے
    8. وَلٰكِنْاور لیکن
    9. بَعُدَتْدور نظر آیا
    10. عَلَيْهِمُان پر
    11. الشُّقَّةُراستہ
    12. وَسَيَحْلِفُوْنَاور اب قسمیں کھائیں گے
    13. بِاللّٰهِاللہ کی
    14. لَوِ اسْتَطَعْنَااگر ہم سے ہوسکتا
    15. لَخَرَجْنَاہم ضرور نکلتے
    16. مَعَكُمْتمہارے ساتھ
    17. يُهْلِكُوْنَوہ ہلاک کر رہے ہیں
    18. اَنْفُسَهُمْاپنے آپ
    19. وَاللّٰهُاور اللہ
    20. يَعْلَمُجانتا ہے
    21. اِنَّهُمْکہ وہ
    22. لَكٰذِبُوْنَیقیناً جھوٹے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اگر لقمہ تر ہوتا اور سفر آسان تو یہ تمہارے پیچھے ضرور لگ جاتے لیکن ان پر یہ منزل کٹھن ہوگئی اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم نکل سکتے تو تمہارے ساتھ ضرور نکلتے یہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
شقۃ اس مسافت کو کہتے ہیں جو ایک مسافر طے کرتا ہے۔ بعدت علیہم الشقۃ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں کہ غزوہ تبوک میں منافقین کی کمزوری : ان آیات میں منافقین کی ان کمزوریوں پر تنبیہ کی جا رہی ہے جو غزوہ تبوک کے موقع پر ظاہر ہوئیں اس لیے کہ یہی غزوہ ہے جس میں موسم کی ناساز گاری کے ساتھ طول مسافت کی آزمائش سے بھی مجاہدین کو سابقہ پیش آیا۔ یہ غزوہ رجب سن 9 ہجری میں پیش آیا۔ موسم گرم تھا۔ فصل پک کر تیار تھی۔ مسافت طویل تھی پھر مقابلہ بھی ایک منظم اور کثیر التعداد فوج سے تھا اس وجہ سے منافقین کی کمزوری اس موقع پر بالکل ہی بےنقاب ہوگئی۔ انہوں نے بےسروسامانی کا عذر اور جھوٹے بہانے تراش کر اس جنگ کے لیے نکلنے سے گریز کیا۔ اگرچہ ان لوگوں کی بہانہ بازی آنحضرت ﷺ سے مخفی نہیں تھی لیکن آپ نے اپنی کریم النفسی کے سبب سے ان سے اغماض فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں سے نقاب الٹ دی تاکہ جو اپنی اصلاح کرنا چاہی وہ اصلاح کرلیں ورنہ کم از کم مسلمان ان کی چھوت سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں۔ فرمایا کہ اگر ان کو توقع ہوتی کہ صعوبت سفر اور کسی خطرے کے بغیر مال غنیمت ہاتھ آجائے گا تو تمہارے ساتھ ہولیتے لیکن سامنے کٹھن منزل تھی اس وجہ سے ان کی ہمتیں پست ہوگئیں لیکن یہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے کے بجائے ایک ایک کو قسمیں کھا کھا کے اطمینان دلانے کی کوشش کریں گے کہ اس جہاد میں ان کی عدم شرکت کا باعث بزدلی نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ اس کے لیے سامان نہیں کرپائے۔ اگر سامان کرپاتے تو پیچھے رہنے والے نہیں تھے۔ فرمایا کہ یہلکون انفسہم ان جھوٹے عذرات سے وہ اپنے آپ کو اپنی دانست میں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اپنے کو بچا نہیں رہے ہیں بلکہ ہلات کے گڑھے میں جھونک رہے ہیں۔ اس لیے کہ نفیر عا کی صورت میں جہاد سے فرار کی سزا بڑی ہی سخت ہے۔ بقرہ آیت 195 کے تحت ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ خدا کے فرائض سے فرار درحقیقت ہلاکت کی طرف فرار ہے۔
Tadabbur-e-Quran - 9 : 42