Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 99

  1. وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿99﴾

    1. وَمِنَاور سے (بعض)
    2. الْاَعْرَابِدیہاتی
    3. مَنْجو
    4. يُّؤْمِنُایمان رکھتے ہیں
    5. بِاللّٰهِاللہ پر
    6. وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِاور آخرت کا دن
    7. وَيَتَّخِذُاور سمجھتے ہیں
    8. مَا يُنْفِقُجو وہ خرچ کریں
    9. قُرُبٰتٍنزدیکیاں
    10. عِنْدَ اللّٰهِاللہ سے
    11. وَاور
    12. صَلَوٰتِدعائیں
    13. الرَّسُوْلِرسول
    14. اَلَآہاں ہاں
    15. اِنَّهَایقیناً وہ
    16. قُرْبَةٌنزدیکی
    17. لَّھُمْان کے لیے
    18. سَيُدْخِلُھُمُجلد داخل کریگا انہیں
    19. اللّٰهُاللہ
    20. فِيْمیں
    21. رَحْمَتِهٖاپنی رحمت
    22. اِنَّبیشک
    23. اللّٰهَاللہ
    24. غَفُوْرٌبخشنے والا
    25. رَّحِيْمٌنہایت مہربان
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان میں وہ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو اور رسول کی دعاؤں کو حصول قرب الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سو بیشک یہ ان کے لیے واسطہ قربت ہی ہے۔ اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ۭ اَلَآ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّھُمْ ۭ سَـيُدْخِلُھُمُ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ قربات، قربۃ کی جمع ہے۔ اس سے مراد برّ وتقوی اور احسان و انفاق کے وہ کام ہیں جو خدا کے تقرب کا وسیلہ و ذریعہ بنتے ہیں۔ اعراب میں مخلصین اور راست باز : اعراب، میں جو مخلص اور راست باز مسلمان تھے یہ ان کا بیان ہے۔ فرمایا کہ ان اعراب میں سچے اور پکے مسلمان بھی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں۔ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو یہ منافقین کی طرح جرمانہ نہیں سمجھتے بلکہ اپنے انفاق کو اور رسول کی دعاؤں کو خدا کے تقرب کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اوپر آیت 80 میں نبی ﷺ کو منافقین کے لیے استغفار سے اور آیت 84 میں ان کی نماز جنازہ سے روک دیا گیا ہے لیکن مخلصین کو یہ دونوں چیزیں حاصل تھیں۔ اس لیے فرمایا کہ وہ اپنے انفاق اور رسول کی دعاؤں کو تقرب الٰہی کا ذریعہ بناتے جب کہ منافقین ان دونوں ہی چیزوں سے محروم ہیں۔ الانہا قربۃ لہم، میں ضمیر مؤنث ہرچند واحد ہے لیکن سابق الذکر دونوں ہی چیزوں کی طرف لوٹے گی۔ اس اسلوب کی وضاحت دوسرے مقام میں تفصیل سے ہم کرچکے ہیں۔ عام طور پر مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ وہ اپنے انفاق کو نبی کی دعاؤں کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں لیکن مجھے اس مطلب کے قبول کرنے میں تردد ہے۔ یہ مطلب لینے کے لیے کلام میں ایسے محذوفات ماننے پڑیں گے جن کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ مولانا فراہی کی تاویل بھی یہی ہے جو میں نے اختیار کی ہے۔ یہ مجھے زبان اور نظم کلام دونوں پہلوؤں سے صحیح معلوم ہوتی ہے۔