تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 90. Al-Balad · Ayah 1
لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ﴿1﴾
- لَآ اُقْسِمُنہیں میں قسم کھاتا ہوں
- بِهٰذَا الْبَلَدِاس شہر کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس سر زمین کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قسم سے پہلے ’لَا‘ کا محل استعمال:
یہاں ’لَا‘ اسی طرح آیا ہے جس طرح ’لَا أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘ (القیامہ ۷۵: ۱) اور بعض دوسرے مقامات میں آیا ہے۔ اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ یہ قسم سے پہلے مخاطب کے اس خیال باطل کی تردید کے لیے ہے جس کا سابق سورہ میں حوالہ ہے۔ سابق سورہ میں یہ بات گزر چکی ہے کہ لوگوں کو جب مال و جاہ کی نعمت ملتی ہے تو اس کو اپنی تدبیر و تدبر کا کرشمہ سمجھ بیٹھتے اور اتراتے ہیں کہ وہ خدا کی نظروں میں بلند مرتبہ ہیں اس وجہ سے اس نے دوسروں کے مقابل میں ان کو یہ سرفرازی بخشی ہے۔ اس خیال باطل کی تردید سابق سورہ میں ایک دوسرے پہلو سے ہوئی ہے۔ اس سورہ میں اس کی تردید ایک اور پہلو سے آ رہی ہے جس کا آغاز قسم سے ہوا ہے اور اس قسم سے پہلے ’لَا‘ ان کے زعم باطل کی تردید کے لیے ہے۔ گویا ان لوگوں کا یہ خیال اس قدر بے بنیاد اور لغو ہے کہ اس کی تردید میں اتنے توقف کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ دلیل بیان کر لینے کے بعد اس کی نفی کی جائے۔ یہ اسلوب کلام ہر زبان میں پایا جاتا اور اس موقع پر اختیار کیا جاتا ہے جب مقصود و مخاطب کے خیال کی لغویت کا اظہار ہو۔
اصل دعویٰ جس پر قسم کھائی گئی ہے: قسم یہاں بطور شہادت اصل دعوے کی تائید میں کھائی گئی ہے جو آگے ’لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنۡسَانَ فِیْ کَبَدٍ‘ (۴) کے الفاظ میں مذکور ہے۔
’بِہٰذَا الْبَلَدِ‘ سے مراد سرزمین مکہ ہے۔ سورۂ تین میں بھی اس کی قسم ’وَہَذَا الْبَلَدِ الْأَمِیْنِ‘ (التین ۹۵: ۳) کے الفاظ سے کھائی گئی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری قسموں کی طرح یہ قسم بھی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سرزمین حرم کے تقدس کے پہلو سے نہیں بلکہ اس دعوے پر دلیل کے پہلو سے کھائی گئی ہے جو آگے مذکور ہے۔