تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 90. Al-Balad · Ayah 2
وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ﴿2﴾
- وَاَنْتَاور آپ
- حِۢلٌّاترے ہوئے
- بِهٰذَا الْبَلَدِاس شہر میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم اسی میں مقیم ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک برمحل جملہ معترضہ:
یہ جملہ قسم کے بیچ میں، بطور جملہ معترضہ، قسم کی تائید و تصویب کے طور پر ہے۔ ضمیر خطاب کے مخاطب آنحضرت ﷺ بھی ہو سکتے ہیں اور قریش بھی۔ دونوں ہی صورتوں میں اصل مدعا کے اعتبار سے کچھ زیادہ فرق نہیں ہو گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کسی ایسے دوردراز علاقے کی شہادت نہیں پیش کی جا رہی ہے جس کے حالات کا اندازہ کرنے اور جس کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے کوئی زحمت سفر اٹھانی پڑے بلکہ تم یہاں مقیم اور اس کے ماضی و حاضر سے اچھی طرح باخبر ہو۔ یہ تمہارا مامن و مستقر اور تمہارا محبوب وطن ہے۔ اس کی تاریخ تمہاری اپنی ہی تاریخ ہے۔ اس کے گرم و سرد اور خشک و تر دونوں سے تم گزرے ہوئے ہو۔ اچھی طرح اندازہ کر سکتے ہو کہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ حرف حرف حق ہے یا اس میں کوئی مبالغہ یا آورد ہے۔