تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 90. Al-Balad · Ayah 17
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ﴿17﴾
- ثُمَّ كَانَپھر ہو
- مِنَسے
- الَّذِيْنَجو
- اٰمَنُوْاایمان لائے
- وَتَوَاصَوْااور باہم نصیحت کی
- بِالصَّبْرِصبر کی
- وَتَوَاصَوْااور باہم نصیحت کی
- بِالْمَرْحَمَةِرحم کھانے کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر وہ بنے ان میں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور ہمدردی کی نصیحت کی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ آگے کا قدم ہے جو ان لوگوں کو اٹھانا چاہیے۔
نیکی کرنے والوں کو نیکی کا داعی بھی بننا چاہیے: جن کی آنکھوں میں عبرت نگاہی اور دلوں میں اثرپذیری ہوتی ہے ان سے اوپر بیان کی ہوئی نیکیوں کی بھی توقع کی جاتی ہے اور یہ توقع بھی ان سے کی جانی چاہیے کہ وہ ایمان لانے والوں اور صبر اور ہمدردئ خلق کی دعوت دینے والوں میں سے بنیں گے۔ اگر وہ نہ بنیں تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ان کے روحانی و اخلاقی ارتقاء کی راہ میں کوئی غیر فطری رکاوٹ ہے جس کو وہ عبور نہ کر سکے۔
نیکی کے کاموں کا خاص مزاج اور ان کے لیے صبر کی ضرورت: یہاں ’مَرْحَمَۃ‘ (ہمدردی) کے ساتھ ’صبر‘ کا ذکر اسی طرح آیا ہے جس طرح سورۂ عصر میں ’حق‘ اور ’صبر‘ کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔ اس کی وجہ نیکی کے کاموں کا وہ مزاج ہے جس کی طرف ہم ’اقتحام عقبۃ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے اشارہ کر چکے ہیں کہ نیکی کے کام بالعموم نفس کی خواہشوں کے خلاف ہیں اس وجہ سے ان کے انجام دینے کے لیے انسان کو نفس کی مزاحمت کرنی اور ایک چڑھائی سی چڑھنی پڑتی ہے۔ یہ چڑھائی وہی لوگ چڑھ سکتے ہیں جن کے اندر ’صبر‘ کی خصلت مستحکم ہو۔ ’صبر‘ کا اصل مفہوم عزیمت و استقامت ہے۔ جن کے اندر یہ وصف نہ ہو وہ کوئی کام بھی پامردی کے ساتھ نہیں کر سکتے اس وجہ سے ضروری ہوا کہ جن کو نیکی کا درس دیا جائے ان کو ساتھ ہی صبر و استقامت کی بھی تلقین کی جائے۔ یہاں اشارے پر قناعت کیجیے، سورۂ عصر کی تفسیر میں، ان شاء اللہ اس کے تمام اطراف بحث میں آئیں گے۔