Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 90. Al-Balad · Ayah 18

  1. اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ﴿18﴾

    1. اُولٰٓئِكَوہ (یہی) لوگ
    2. اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِبرکت والے (خوش نصیب)
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہی خوش بخت لوگ ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نیکوں اور بدوں کے انجام کا فرق: یہ آخر میں ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو نیکی کے مذکورہ کاموں کا حوصلہ کریں گے اور جو ان سے محروم رہیں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ یہ کام کریں گے تو وہ خوش بخت اور بامراد ہیں اور جو اللہ کی باتوں کی تکذیب ہی پر اڑے رہیں گے وہ بدبخت و نامراد ہیں، وہ آگ کے اندر بند کر دیے جائیں گے۔ یہاں تقابل کے اصول پر پہلے ٹکڑے میں اتنی بات محذوف ہے کہ ’اصحٰب المیمنۃ‘ جنت کے بالا خانوں میں ہوں گے۔ لفظ ’مَیْمَنَۃ‘ ’یمین‘ (دہنے) سے بھی ہو سکتا ہے اور ’یمن‘ (مبارکی اور خوش بختی) سے بھی لیکن یہاں یہ ’مَشْئَمَۃ‘ کے مقابل میں آیا ہے جو لازماً ’شوم‘ (نحوست اور بدبختی) سے ہے۔ اس وجہ سے اس کو بھی ’یمن‘ سے لینا پڑے گا۔ میں نے ترجمہ میں اسی پہلو کو اختیار کیا ہے۔ ویسے یہ فرق محض لفظی ہو گا۔ اصل مدعائے کلام کے اعتبار سے کوئی بڑا فرق نہیں ہو گا۔ قرآن میں ان دونوں گروہوں کو ’اَصْحَابُ الْیَمِیْن‘ اور ’اَصْحَابُ الشِّمَال‘ سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سورۂ حاقہ میں اس تعبیر کی وجہ بھی بتا دی گئی ہے کہ نیکوں کو ان کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور بدوں کو ان کے بائیں ہاتھ میں، ان دونوں تعبیروں میں بس یہ فرق ہے کہ ایک میں ان کی ظاہری تقسیم کا اعتبار ہے، دوسری میں ان کی معنوی تقسیم کا۔ جن کو ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے ظاہر ہے کہ وہ خوش بخت ہوں گے اور جن کو ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑا دیے جائیں گے ان کی بدبختی اور محرومی بھی امر بدیہی ہے۔