تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 90. Al-Balad · Ayah 6
یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ﴿6﴾
- يَقُوْلُکہتا ہے
- اَهْلَكْتُخرچ کرڈالا
- مَالًامال
- لُّبَدًاڈھیروں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فاسد ذہنیت سے فاسد کردار:
اوپر کی آیت میں ان کی اس ذہنیت سے پردہ اٹھایا گیا ہے جس میں مال و جاہ کی فراوانی نے ان کو مبتلا کر دیا تھا۔ اس آیت میں ان کے اس کردار سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے جو اس فاسد ذہنیت نے ان کے اندر پیدا کیا۔
جن کے اندر یہ گھمنڈ پیدا ہو جاتا ہے کہ ان کو جو مال و جاہ حاصل ہے یہ ان کا پیدائشی حق اور ان کی قابلیت و ہنر کا کرشمہ ہے، ان کے اندر انفاق کا جذبہ بالکل مردہ ہو جاتا ہے اس لیے کہ ان کو نہ خدا کی پروا رہ جاتی نہ آخرت کی۔ اس طرح کے لوگ اپنی بخالت پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے مستحقین کے سامنے ہمیشہ اپنے وسیع مصارف کا رونا روتے رہتے ہیں اور اس طرح ان کو باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انھیں ذاتی مصارف کے علاوہ قومی و اجتماعی مصارف پر اتنا خرچ کرنا پڑتا ہے کہ وسیع ذرائع آمدنی رکھنے کے باوجود مشکل ہی سے کچھ پس انداز ہوتا ہے۔ یہی طریقہ وہ ان لوگوں کو چپ کرنے کا اختیار کرتے ہیں جو ان کو خدا اور آخرت کے نام پر انفاق کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کو وہ جواب دیتے ہیں کہ آخر کہاں تک خرچ کیے جائیں! ڈھیروں مال تو اسی طرح کے مصارف پر اٹھا چکے ہیں! ’مَالاً لُّبَدًا‘ کے معنی ہیں کثیر اور ڈھیروں مال۔