Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 90. Al-Balad · Ayah 8

  1. اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ﴿8﴾

    1. اَلَمْ نَجْعَلْکیا نہیں ہم نے بنایا
    2. لَّهٗاس کے لئے
    3. عَيْنَيْنِدو آنکھیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نعمتوں کا صحیح مصرف: یعنی یہ لوگ مال و دولت پا کر اسی میں کھوئے گئے حالانکہ اللہ نے ان کو اس سے بھی بڑی نعمتیں دی تھیں، اگر یہ ان کے بھی قدردان ہوتے تو اس طرح خزف ریزوں کے عشق میں اندھے ہو کر اس ابدی بادشاہی کو نہ گنوا بیٹھتے جو اس فانی دولت کے ذریعے وہ حاصل کر سکتے تھے۔ فرمایا کہ وہ غور کریں کہ کیا ہم نے ان کو دو آنکھیں نہیں دیں کہ وہ ان سے اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ایک طرف تو ہم نے ان کو مال و جاہ سے نوازا اور دوسری طرف ان کے آگے پیچھے ایسے یتیم وفادار، غریب و لاچار اور کمزور و بیمار بھی ہیں جو نان شبینہ کو محتاج، تن ڈھانکنے سے مجبور، آنکھوں اور ہاتھ پاؤں کی نعمت سے محروم ہیں۔ ہم نے آنکھیں دے کر ان کو یہ منظر اس لیے دکھایا کہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں اور اپنے رب کے شکرگزار بنیں کہ اس نے محض اپنے فضل سے ان کو اس طرح کی کسی آزمائش سے محفوظ رکھا اور پھر شکرگزاری کا حق یوں ادا کریں کہ پوری فیاضی سے ان ضرورت مندوں پر اپنا وہ مال صرف کریں جو ان کے رب نے اس طرح کے لوگوں کے حق کی حیثیت سے ان کی تحویل میں دیا۔ مطلب یہ ہے کہ آنکھوں کا کوئی صحیح مصرف ہے تو یہی عبرت نگاہی اور اثرپذیری ہے۔ اگر وہ یہ کام نہ کریں تو ان کے ہونے سے نہ ہونا بہتر ہے۔