تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 90. Al-Balad · Ayah 9
وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ﴿9﴾
- وَلِسَانًااور زبان
- وَّشَفَتَيْنِاور دو ہونٹ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَلِسَانًا وَشَفَتَیْْنِ‘۔ یعنی آنکھوں کے ساتھ اس نے انسان کو ایک زبان اور دو ہونٹ بھی عنایت فرمائے تاکہ وہ جو کچھ دیکھے اور محسوس کرے اس پر خود بھی عمل پیرا ہو اور اپنی زبان سے دوسروں کو بھی اس پر ابھارے تاکہ اس شوق و ترغیب سے دوسروں کے اندر بھی وہ نیکی پھیلے۔ سابق سورہ میں اسی چیز کی طرف
’وَلَا تَحَاضُّوۡنَ عَلَی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘ (الفجر ۸۹: ۱۸)
(اور تم مسکینوں کو کھلانے پر لوگوں کو نہیں ابھارتے)
کے الفاظ سے توجہ دلائی ہے۔ اور اس سورہ میں آگے اسی مضمون کی تکمیل ان الفاظ میں کی ہے:
’ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوۡا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ‘ (۱۷)
(پھر وہ بنے ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر اور ہمدردی کی نصیحت کی)۔
اس آیت سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ انسان جس نیکی کا احساس کرے اس کے انجام دینے کے لیے خود بھی اقدام کرے اور دوسروں کو بھی اس کے لیے ابھارے۔ یہ چیز اس کے فرائض میں داخل ہے ورنہ اس کی نیکی ادھوری رہ جائے گی۔ معاشرہ سے متعلق بھی ہر شخص پر اس کی صلاحیت کے اعتبار سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس کو ادا کے بغیر کوئی شخص عند اللہ بری نہیں ہو سکتا۔ یہاں اشارے پر قناعت کیجیے، ان شاء اللہ سورۂ عصر کی تفسیر میں ’وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ‘ (العصر ۱۰۳: ۳) کے تحت اس پر مفصل بحث آئے گی۔
ایک خاص نکتہ: یہاں ایک ضمنی نکتہ بھی قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ زبان کے ساتھ دو ہونٹوں کا ذکر فرمایا ہے جو زبان کو اوپر اور نیچے دونوں طرف سے محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ قاعدہ ہے کہ جو چیز جتنی ہی قیمتی، جتنی ہی اثرآفرین اور جتنے ہی گہرے اور دوررس نتائج پیدا کرنے والی ہوتی ہے وہ اتنی ہی احتیاط سے محفوظ کی جاتی ہے تاکہ اس کے استعمال میں کوئی بے احتیاطی اور بے پروائی رہ نہ پائے۔ زبان بھی انسان کے نہایت قیمتی اور مؤثر اسلحہ میں سے ہے۔ یہ ایک شمشیر جوہر دار ہے اس وجہ سے قدرت نے اس کو میان میں چھپا کر انسان کو پکڑایا تاکہ وہ اس کو وہیں میان سے باہر نکالے جہاں وہ ضرورت پیش آئے جس کے لیے قدرت نے اس کو بنایا ہے لیکن یہ عجیب بدقسمتی ہے کہ بالعموم لوگ اس سے اصل کام لینے کے بجائے گھاس کاٹنے کی درانتی کا کام لیتے ہیں۔