تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 91. Ash-Shams · Ayah 10
وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ﴿10﴾
- وَقَدْاور تحقیق
- خَابَنامراد ہوا
- مَنْجس نے
- دَسّٰىهَااسے خاک میں ملایا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور نامراد ہوا جس نے اس کو آگاہ کیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘۔ یہ الہام خیر و شر کا لازمی اور بدیہی تقاضا بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں امتیاز بخشا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ خیر کو اختیار اور شر سے اجتناب کرے۔ یہی طریقہ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں فلاح و کامرانی کی راہ کھولے گا۔ اگر اس کے برعکس اس نے شر و فساد کی راہ اختیار کی تو یہ چیز اس کی بدبختی و نامرادی کا سبب بنے گی۔
’دَسّٰھَا‘ دراصل ’دَسَّھَا‘ ’دَسَسٌ‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی کسی چیز کو خاک میں ڈھانک دینے اور مٹی میں ملا دینے کے ہیں۔ یہی لفظ بدل کر ’دَسّٰھَا‘ ہو گیا ہے اور اس تبدیلی سے اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے، یعنی اس کو بالکل خاک میں ملا دیا۔ عربی میں اس طرح کے تغیر کی مثالیں موجود ہیں مثلاً ’تظنَّنَ‘ سے ’تَظَنّٰی‘۔
ہم نے اس کو الہام خیر و شر کا بدیہی تقاضا اس وجہ سے قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو نعمت بھی بندے کو عطا فرماتا ہے اس کا حق واجب یہ ہے کہ بندہ اس کو اس کے صحیح مصرف میں استعمال کرے۔ اسی میں اس کی بہبود اور درحقیقت یہی اس نعمت کا شکر ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو گویا خود اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں گراتا ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جس کو خدا نے دو آنکھیں بخشی ہیں اس پر واجب ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر راہ کے عقبات اور نشیب و فراز دیکھتا ہوا چلے۔ اگر وہ آنکھیں موند کر چلے گا تو اس کا کسی کھڈ میں گرنا بعید نہیں اور اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہوگی، کسی دوسرے پر نہیں ہو گی۔
ان قسموں کا مقسم علیہ کیا ہے؟ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قسموں کا مقسم علیہ کیا ہے؟ بعض لوگوں نے ’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا ہ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘ کو مقسم علیہ قرار دیا ہے لیکن صاحب کشاف کو اس سے انکار ہے۔ ہمارے نزدیک ان کا انکار بے جا نہیں ہے۔ یہاں جو قسمیں مذکور ہیں ان میں سورج، چان، دن اور رات کی قسمیں تو، جیسا کہ ہم نے وضاحت کی، اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ اس کائنات کے تمام عناصر کی باگ ایک قادر و قیوم کے ہاتھ میں ہے جو ان میں سے کسی کو اس کے محور و مدار سے سرمو تجاوز کی اجازت نہیں دیتا ورنہ یہ سارا عالم اپنے اضداد کے تصادم سے درہم برہم ہو جائے۔
اس کے بعد آسمان و زمین کی قسمیں اس عالم کے صانع کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور مقصود ان سے اس حقیقت کو سامنے لانا ہے کہ اس کی ان صفات کا لازمی تقاضا ہے کہ اس دنیا میں وہ کسی کو شتر بے مہار بنا کے چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ ہر ایک کے سامنے اس کے محاسبہ کا دن آنا لازمی ہے۔ یہ خدا کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کا ایک بدیہی تقاضا ہے۔
تیسری قسم نفس انسانی کی تشکیل کی قسم ہے جو ایک انفسی شہادت کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی وضاحت خود قرآن نے یوں فرمائی ہے کہ جب خالق نے خود انسان کی فطرت کے اندر خیر اور شر کا امتیاز ودیعت فرمایا ہے تو لازماً اس کے معنی یہی ہیں کہ جو اپنے کو خیر سے آراستہ کرے گا وہ فلاح پانے والا بنے گا اور جو اپنے اوپر شر کو مسلط کرے گا وہ نامراد ہونے والوں میں سے ہو گا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا ہ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘ یہاں مقسم علیہ کے طور پر نہیں بلکہ آخری قسم کے ایک خاص پہلو کی وضاحت کے طور پر ہے۔ مقسم علیہ یہاں ایسا ہونا چاہیے جو تمام قسموں کے لازمی نتیجہ کو اپنے اندر سمو لے اس وجہ سے مجھے صاحب کشاف کی رائے قوی معلوم ہوتی ہے کہ یہاں جواب قسم محذوف ہے۔ اس کے حذف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس آخری ٹکڑے نے مقسم علیہ کی طرف ایک اشارہ کر دیا اس وجہ سے اس کے اظہار کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ مقسم علیہ کے حذف کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ساری بات مقسم علیہ کی حیثیت سے محذوف مانی جا سکتی ہے جو قسموں سے متبادر ہوتی ہے۔ یہاں اس کو جامع الفاظ میں بیان کرنا تو مشکل ہے لیکن ایک نمایاں پہلو کی تعبیر یوں کی جا سکتی ہے کہ ’خالق کائنات کسی قوم کے طغیان کو برداشت نہیں کرتا بلکہ وہ لازماً اس کو تباہ کر دیتا ہے‘۔
یہاں قرآن کے اس فلسفۂ تاریخ کو ذہن میں رکھیے جس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے کہ جہاں تک قوموں کا تعلق ہے وہ اپنے طغیان کی سزا قومی حیثیت سے اسی دنیا میں پا جاتی ہیں۔ آخرت میں افراد کا محاسبہ ان کی انفرادی حیثیت میں ہو گا اور ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جز ا یا سزا پائے گا۔