Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 91. Ash-Shams · Ayah 11

  1. كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ﴿11﴾

    1. كَذَّبَتْجھٹلایا
    2. ثَمُوْدُثمود
    3. بِطَغْوٰىهَآاپنی سرکشی
Translation · Tadabbur-e-Quran
ثمود نے جھلایا اپنی سر کشی کے باعث۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک تاریخی شہادت: آفاقی و انفسی شواہد کے بعد یہ ایک تاریخی شہادت اسی دعوے کی دلیل کے طور پر پیش کی گئی ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ جو قوم طغیان میں مبتلا ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اتمام حجت کے بقدر مہلت دینے کے بعد لازماً تباہ کر دیا کرتا ہے۔ آفاقی و انفسی دلائل کا تعلق غور و فکر سے ہوتا ہے اس وجہ سے عاقلوں کے لیے تو وہ مفید ہوتے ہیں لیکن عام لوگوں پر ان کا وہ اثر نہیں پڑتا جو پڑنا چاہیے۔ اس طرح کے لوگوں پر واقعاتی شہادتیں زیادہ کارگر ہوتی ہیں بشرطیکہ ان کے اندر کچھ صلاحیت ہو۔ اس وجہ سے قرآن نے آفاقی و انفسی دلائل کے پہلو بہ پہلو تاریخی؂۱ شواہد کا بھی التزام رکھا ہے تاکہ اتمام حجت کے پہلو سے دعوت میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ دوسرے مقامات میں تو قرآن نے اس مقصد سے متعدد قوموں کا ذکر کیا ہے لیکن یہاں صرف ایک ہی قوم۔۔۔ ثمود۔۔۔ کا ذکر ہے۔ اس کے بعض وجوہ بالکل ظاہر ہیں۔ ثمود کے خاص طور پر ذکر کرنے کے بعض وجوہ: ایک وجہ تو یہ ہے کہ عرب کی اقوام بائدہ میں سے قریش ان کے حالات اور ان کے انجام سے نسبۃً زیادہ واقف تھے۔ استاذ امام مولانا فراہیؒ نے سورۂ شمس کی تفسیر میں ان کے حالات اور قریش سے ان کی مشابہت پر مفصل بحث کی ہے۔ ہم اس کے بعض ضروری حصے نقل کرتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں: ’’اہل عرب جن قوموں سے اچھی طرح واقف تھے انہی کے حالات اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے عبرت کے لیے پیش کیے ہیں۔ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ ’کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ‘ کے الفاظ سے جیسا کہ دھندلا تصور ہمارے سامنے آتا ہے وہسا ہی قریش کے سامنے بھی آتا ہو گا۔ اس سورہ میں ثمود سے متعلق جو اشارات ہیں وہ قریش کے سامنے ان کی پوری تاریخ رکھ دینے کے لیے کافی تھے۔ یہ عرب بائدہ میں سے ہیں جن کی بستیاں اور جن کی روایات اہل عرب کو وراثت میں ملیں۔ ان سے متعلق ان کی روزمرہ کی گفتگوؤں میں بہت سی مثلیں پھیلی ہوئی تھیں۔ قرآن مجید ہمارے اس دعوے پر خود سب سے بڑی حجت ہے۔‘‘ قرآن کے دلائل نقل کرنے کے بعد مولانا فرماتے ہیں: ’’شعراء نے بھی ان کا ذکر ایک جانی پہچانی ہوئی قوم کی حیثیت سے کیا ہے۔۔۔ ان کی شوکت و عظمت ضرب المثل تھی۔ خنساء نے کہا ہے: ولاقاہ من الایام یوم کما من قبل لم یخلد قدار (اور اس کو گردش روزگار نے فنا کر دیا جس طرح اس سے پہلے قِدار کو دوام حاصل نہیں ہوا) شعر میں قِدار سے مراد احمر ثمود ہے جو قوم کا سردار تھا اور جس نے اونٹنی کو گزند پہنچایا۔ جس طرح عاد میں قَیل بن عمر گزرا ہے اسی طرح قوم ثمود میں یہ نہایت سرکش اور مطلق العنان سردار تھا۔ مشہور جاہلی شاعر افوہ اددی نے ایک قصیدے میں اپنی قوم کے پاجیوں کو قَیل اور قدار سے تشبیہ دی ہے: فینا معا شر لم یبنوا لقومھم وان بنی قومھم ما افسدوا عادوا (ہم میں کچھ ایسے اشرار ہیں جنھوں نے اپنی قوم کے لیے بنایا توکچھ بھی نہیں اور اگر ان کی قوم نے ان کے بگاڑے ہوئے کو بنایا تو انھوں نے اس کو پھر بگاڑ دیا) لا یرشدون ولن یرعوا لمرشدھم والجھل منہم معا والغی میعاد (نہ خود راہ دیکھتے اور نہ راہ دکھانے والوں کی سنتے، جہالت اور سرکشی، دونوں ان میں ساتھ ساتھ موجود ہیں) اضحوا کقیل بن عمرو فی عشیرتہٗ اذا ھلکت بالذی سدّٰی لھا عاد (وہ اپنی قوم میں قَیل بن عمر کی مثال ہیں جس کی کرتوتوں کی بدولت عاد تباہ ہوئے) او بعدہ کقد ارحین تابعہٗ علی الغوایۃ اقوام فقد بادوا (یا اس کے بعد وہ قِدار کی مثال ہیں جس کی پیروی لوگوں نے گمراہی میں کی اور تباہ ہوئے)‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ثمود کی سرکشی، ان کے لیڈروں کی گمراہی اور ان کے عبرت انگیز انجام کی تفصیل اہل عرب میں اس طرح معلوم و معروف تھی کہ ان کے شعراء بے تکلف اپنے اشعار میں ضرب المثل کی طرح ان کا ذکر کرتے اس وجہ سے قرآن کا یہ اجمالی حوالہ اہل عرب کے لیے اجمالی نہیں تھا بلکہ وہ انہی چند لفظوں سے ان کے طغیان کے برے انجام کی پوری تفصیل سمجھ سکتے تھے۔ ’کَذَّبَتْ ثَمُوۡدُ بِطَغْوَاہَا‘ میں لفظ ’طَغْوٰی‘ پر خاص طور پر نظر رہے۔ اس کے معنی سرکشی اور اللہ تعالیٰ کی حدود سے کھلم کھلا بغاوت کے ہیں۔ خاص طور پر وہ سرکشی جس کی مرتکب کوئی قوم اس وقت ہوتی ہے جب کہ حق اس پر اچھی طرح واضح ہو چکا ہو۔ اس لفظ پر نگاہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق سورہ کے عمود سے ہے۔ ہم تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سورہ میں قریش کو یہ آگاہی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں کسی قوم کے طغیان کو پسند نہیں کرتا۔ جو قوم یہ روش اختیار کرتی ہے، ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد، وہ لازماً تباہ کر دی جاتی ہے۔ اس لفظ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ثمود نے اپنے رسول کی تکذیب اس وجہ سے نہیں کی کہ ان پر حق واضح نہیں تھا بلکہ انھوں نے حق کے واضح ہونے کے باوجود محض سرکشی کے سبب سے تکذیب کی۔ _____ ؂۱ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ تاریخی شواہد ہیں تو آفاقی دلائل ہی کا ایک حصہ لیکن ان کی خاص اہمیت کے سبب سے میں نے یہاں ان کا ذکر الگ کیا ہے۔