تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 91. Ash-Shams · Ayah 7
وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ﴿7﴾
- وَنَفْسٍاور نفس (انسان) کی
- وَّمَا سَوّٰىهَااور جس نے اسے درست کیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور نفس اور جیسا کچھ اس کو سنوارا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آفاقی شہادت کے بعد نفسیاتی شہادت:
آفاقی شہادتوں کے بعد یہ نفسیاتی شہادت کی طرف توجہ دلائی کہ انسان اگر خود اپنے نفس پر غور کرے تو یہ حقیقت واضح ہو گی کہ خالق نے اس کی تشکیل اس طرح فرمائی ہے کہ اس کے اندر نیکی اور بدی دونوں کا شعور ودیعت کر دیا ہے۔ یہ شعور ظاہر ہے کہ اسی لیے ودیعت ہوا ہے کہ انسان ان میں سے نیکی کو اختیار کرے اور بدی سے اپنے کو بچائے۔ اور اس سے یہ بات بھی بدیہی نتیجہ کے طور پر نکلی کہ فلاح وہی پائے گا جو اپنے کو بدی سے پاک رکھے گا اور وہ نامراد ہو گا جو اس کو گناہوں سے آلودہ کرے گا۔ اس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ اپنے آپ کو غیرمسؤل اور شتر بے مہار سمجھنے کا تصور انسان کے خود اپنے نفس کی شہادت کے خلاف ہے۔
’نَفْسٍ‘ کی تنکیر تقلیل، تکثیر اور تفخیم سب کے لیے ہو سکتی ہے لیکن میرے نزدیک یہاں یہ تفخیم شان کے لیے ہے، پیچھے قسموں ہی کے سلسلہ میں اس کی نہایت واضح مثالیں گزر چکی ہیں۔ مثلاً سورۂ بروج میں فرمایا ہے: ’وَشَاھِدٍ وَّمَشْھُوْدٍ‘ (۳) سورۂ بلد میں ہے: ’وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ‘۔ ان کی وضاحت متعلق سورتوں میں ہو چکی ہے۔ اسی طرح یہاں ’وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا‘ ہے جس سے نفس انسانی کی حیرت انگیز حکیمانہ تشکیل اور اس کی نہایت اعلیٰ ظاہری و باطنی صلاحیتوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔
’وَّمَا سَوّٰھَا‘ میں بھی ’مَا‘ مصدریہ ہے اور یہ، جیسا کہ اوپر وضاحت ہو چکی، نفس انسانی کی اس حکیمانہ تشکیل و تقویم کی طرف توجہ دلا رہا ہے جس کی وضاحت قرآن نے جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے فرمائی اور اس سے استدلال کیا ہے کہ قدرت ان اعلیٰ صلاحیتوں کی چیز محض ایک کارعبث اور کھلونے کے طور پر نہیں بنا سکتی اس وجہ سے لازم ہے کہ ایک دن یہ اپنی صلاحیتوں اور نعمتوں سے متعلق اپنے خالق کے آگے جواب دہ ہو۔
لفظ ’تَسْوِیَۃٌ‘ پر ہم مختلف مقامات میں بحث کر چکے ہیں کہ کسی چیز کی تخلیق میں جو تکمیلی مرحلہ ہوتا ہے یہ اس کی تعبیر کے لیے بھی آتا ہے، جیسے فرمایا ہے:
’اَلَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی‘ (لاعلیٰ ۸۷: ۲)
(جس نے خاکہ بنایا پھر اس کے نوک پلک سنوارے)
اس سے معلوم ہوا کہ یہاں قسم میں نفس انسانی کی تخلیق کا صرف ابتدائی مرحلہ پیش نظر نہیں ہے بلکہ وہ تکمیلی مرحلہ بھی مدنظر ہے جب وہ قدرت کے ایک شاہ کار کی حیثیت سے نمایاں ہوا اور خود اپنے وجود سے اس حقیقت کا شاہد بن گیا کہ وہ اس دنیا میں ذمہ داریوں کے ساتھ آیا ہے۔ اس میں وہ خدا کا خلیفہ اور اس کے آگے مسؤل ہے۔