تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 92. Al-Lail · Ayah 1
وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ﴿1﴾
- وَالَّيْلِرات کی قسم
- اِذَا يَغْشٰىجب وہ ڈھانک لے
Translation · Tadabbur-e-Quran
شاہد ہے رات جب کہ چھا جاتی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ہر چیز کے جوڑے جوڑے ہونے سے قیامت پر استدلال:
یہ رات اور دن، نر اور مادہ کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس طرح کی قَسمیں جو قرآن میں آئی ہیں ان کی ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں کہ یہ کسی دعوے پر شہادت کے لیے آئی ہیں۔ رات اور دن، نر اور مادہ میں نسبت زوجین کی ہے اور یہ دونوں مل کر اس مقصد کو پورا کرتے ہیں جس کے لیے خالق نے ان کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے اندر خلا ہے جو جوڑے کے ساتھ مل کر ہی پورا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ان کے وجود کی نہ کوئی افادیت باقی رہتی اور نہ ان کی صلاحیتوں کی کوئی توجیہ ہو سکتی۔ قرآن نے ان اضداد کے اندر توافق کے پہلو سے توحید پر بھی دلیل پیش کی ہے جس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے اور قیامت پر بھی شہادت پیش کی ہے جو یہاں مقصود ہے۔ مثلاً سورۂ ذاریات میں فرمایا ہے:
’وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ‘ (الذاریات ۵۱: ۴۹)
(اور ہم نے ہر چیز میں سے جوڑے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو)۔
یعنی اس بات کی یاددہانی حاصل کرو کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ہے اور یہ اپنی غایت کو اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر پہنچے گی۔ اس نکتہ کی وضاحت سورۂ ذاریات کی مذکورہ آیت کے تحت ہو چکی ہے اور اس کتاب کے دوسرے مقامات میں بھی اس پر مفصل بحث ہوئی ہے۔ آگے مقسم علیہ کی وضاحت کرتے ہوئے بھی ہم اس پر روشنی ڈالیں گے۔