تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 91. Ash-Shams · Ayah 15
وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ع﴿15﴾
- وَلَا يَخَافُاور وہ نہیں ڈرتا
- عُقْبٰهَاان کا انجام
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ نہیں ڈرتا کہ اس کے پیچھے کیا ہوگا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کا اندیشہ نہیں:
یعنی اللہ تعالیٰ جب اسی طرح کسی قوم کو تباہ کر دیتا ہے تو اپنی اس سنت کے مطابق کرتا ہے جو اس نے اس دنیا کی مصلحت اور بہبود کے لیے اپنے محیط کل علم اور اتھاہ قدرت کے تحت ٹھہرا رکھی ہے اس وجہ سے نہ اس کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ نتیجہ کے اعتبار سے اس کے اس فیصلہ میں کوئی غلطی ہو سکتی ہے اور نہ یہ ڈر ہوتا ہے کہ کوئی اس کو چیلنج کر سکتا ہے۔ وہ کسی کے آگے نہ مسؤل ہے اور نہ کسی کا اس پر زور ہے۔
اس سے ضمناً ان لغویات کی بھی نفی ہو جاتی ہے جو تورات کی کتاب پیدائش میں اس کے راویوں نے ملائے ہیں، مثلاً
’’اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اس کے دل کے تصور اور خیال سدا برے ہیں۔ تب خداوند زمین پر انسان کو پیدا کرنے سے ملول ہوا اور دل میں غم کیا۔‘‘ (پیدائش باب ۶: ۵-۶)
اسی طرح طوفان نوح کے ذکر کے بعد ہے:
’’اور خداوند نے اپنے دل میں کہا کہ انسان کے سبب سے میں پھر کبھی زمین پر لعنت نہیں بھیجوں گا کیونکہ انسان کے دل کا خیال لڑکپن سے برا ہے اور نہ پھر سب جان داروں کو، جیسا اب کیا ہے، ماروں گا۔‘‘ (پیدائش باب ۸: ۲۱)