تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 92. Al-Lail · Ayah 14
فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ﴿14﴾
- فَاَنْذَرْتُكُمْپس میں تمہیں ڈراتا ہوں
- نَارًا تَلَظّٰىآگ۔ بھڑکتی ہوئی
Translation · Tadabbur-e-Quran
سو میں نے تم کو آگاہ کردیا دہکتی آگ سے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قریش کی طرف التفات:
اصولی طور پر حقیقت بیان کر دینے کے بعد یہ خاص طور پر بھی قریش کو مخاطب کر کے واضح فرما دیا کہ ضروری تھا کہ تمہیں پہلے سے آگاہ کر دیا جائے اس وجہ سے میں نے تمہیں اس بھڑکنے والی آگ سے آگاہ کر دیا ہے جس میں وہی لوگ پڑیں گے جو نہات بدبخت، تکذیب کرنے والے اور منہ موڑنے والے ہوں گے۔ اور وہ اس سے محفوظ رکھے جائیں گے جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے خرچ کریں گے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ: یہ امر یہاں واضح رہے کہ مقابلہ یہاں کم شقی اور زیادہ شقی یا زیادہ متقی اور کم متقی میں نہیں ہے بلکہ رسول کی تکذیب کرنے والوں اور اس کی تصدیق کرنے والوں سے ہے۔ رسول اتمام حجت کا کامل ذریعہ ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے جھٹلانے والے سب ’اَشْقٰی‘ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ’اَشْقٰی‘ کی صفت ’اَلَّذِیْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی‘ آئی بھی ہے جس سے مقصود اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہاں زیربحث وہ لوگ ہیں جو رسول کی تکذیب اس کے سامنے کر رہے تھے۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو سب سے زیادہ شقی ہیں اور یہ اس جہنم میں پڑیں گے جس کی آگ پہلے سے ان کے لیے تیار اور شعلہ زن ہے۔ برعکس اس کے رسول کے انذار سے چوکنے ہو کر جو لوگ روز حساب کی تیاریوں میں لگ گئے اور اپنے نفس کو آلائشوں سے پاک کرنے کے لیے اپنے مال خرچ کرنے لگے وہ سب ’اَتْقٰی‘ ہیں۔ اس لیے کہ انھوں نے ایسے وقت میں رسول کی بات مانی جب معاشرہ بحیثیت مجموعی اس کا دشمن تھا اور ایسے وقت نیکی کی راہ پر چلے جب اس پر چلنے کا حوصلہ کرنے والے بہت تھوڑے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کے ابتدائی دور کے ساتھیوں کا درجہ ’سابقین‘ اور ’مقربین‘ کا ہے جس میں بعد والوں کو شامل ہونے کی سعادت کم ہی حاصل ہو گی۔
اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ دوزخ صرف انہی لوگوں کے لیے ہے جو زیادہ شقی ہوں گے، عام شقی دوزخ میں نہیں جائیں گے، لیکن یہ بات نہایت کمزور ہے۔ اگر اس کو صحیح مانیے تو ایک شخص اس آیت سے یہ استنباط بھی کر سکتا ہے کہ دوزخ سے صرف وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو اعلیٰ درجہ کے متقی (اتقیٰ) ہوں گے، عام متقی اس سے محفوظ نہیں رہیں گے یا یہ استدلال کر سکتا ہے کہ جنت کے حق دار صرف ’اتقیٰ‘ ہوں گے، عام متقی اس سے محروم رہیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں صحیح نہیں ہیں۔ جن لوگوں نے بھی اس طرح کی کوئی بات کہی ہے ان کو غلط فہمی صرف آیات کا موقع و محل نہ سمجھنے سے پیش آئی ہے۔ ہم نے موقع و محل کی وضاحت کر دی ہے جس کے بعد اس طرح کی غلط فہمیوں کی راہ مسدود ہو گئی ہے۔