تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 92. Al-Lail · Ayah 13
وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى﴿13﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- لَنَاہمارے لئے
- لَلْاٰخِرَةَآخرت
- وَاور
- الْاُوْلٰىدنیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت بھی اور دنیا بھی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَۃَ وَالْأُوۡلٰی‘۔ یہ مذکورہ بالا تنبیہ پر مزید اضافہ ہے کہ لوگ یہ بات بھی اچھی طرح یاد رکھیں کہ آخرت ہو یا دنیا دونوں کے معاملات ہمارے ہی اختیار میں ہیں۔ نہ کوئی اپنی تدبیر اور اپنے زور سے اس دنیا میں کچھ بنا سکتا اور نہ آخرت میں کچھ بنا سکے گا۔ اگر کسی کو اپنے خاندانی شرف یا اپنے خیالی معبودوں پر ناز ہے تو وہ یاد رکھے کہ آخرت میں اس طرح کی مزعومہ چیزوں کا کوئی وجود نہیں ہو گا۔ ہر شخص کو صرف اللہ وحدہٗ لاشریک سے سابقہ پیش آئے گا۔ سورۂ نجم آیت ۲۵ میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔
مال دار بخیلوں کے ذہن کا خناس: اوپر آیت ۸ میں ’وَأَمَّا مَنۡ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی‘ کے الفاظ جو آئے ہیں یہاں ان پر دوبارہ ایک نظر ڈال لیجیے۔ مال دار بخیلوں کے ذہن میں یہ خناس سمایا ہوا ہوتا ہے کہ ان کے پاس جو کچھ ہے ان کی اپنی تدبیر اور اپنے تدبر کا ثمرہ ہے اس وجہ سے وہ اپنے کو خدا سے بالکل بے نیاز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ قارون کو جب یاددہانی کی گئی کہ وہ خدا کے بخشے ہوئے مال میں خدا کے حق کو پہچانے تو اس نے جواب دیا کہ
’إِنَّمَا أُوتِیْتُہُ عَلَی عِلْمٍ عِندِیْ‘ (القصص ۲۸: ۷۸)
(یہ تو مجھے اپنے علم کی بدولت ملا ہے)
یعنی میں نے اس کو اپنی قابلیت و ذہانت سے حاصل کیا ہے، خدا سے اس کو کیا تعلق کہ اس میں اس کا بھی کوئی حصہ ہو! یہی ذہنیت کم و بیش ہر سرمایہ دار کی ہوتی ہے۔ قرآن نے ’وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَۃَ وَالْأُوۡلٰی‘ کے الفاظ سے اس شیطانی تصور پر ضرب لگا دی ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے وہ بھی خدا ہی کا دیا ملتا ہے اور آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ بھی خدا ہی کے دیے ملے گا۔ نہ آخرت میں اس کا کوئی شریک و سہیم ہے نہ دنیا میں۔