Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 92. Al-Lail · Ayah 6

  1. وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ﴿6﴾

    1. وَصَدَّقَاور سچ جانا
    2. بِالْحُسْنٰىاچھی بات کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اچھے انجام کو سچ مانا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی‘۔ ’حُسْنٰی‘ کا موصوف لفظ ’عاقبۃ‘ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے یعنی وہ انفاق اور نیکی کے اچھے انجام پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ان کی نیکی کے اصل محرک کا پتہ دیا ہے کہ آخرت کے خوف کے ساتھ ان کے اندر یہ ایمان بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی ہر نیکی کا بھرپور صلہ ہے۔ جس شخص کے اندر نہ آخرت کا خوف ہو نہ وہ یہ ایمان رکھتا ہو کہ آخرت میں اس کی رائی کے برابر کی نیکی کا بھی صلہ ملنے والا ہے، وہ اول تو کچھ خرچ کرنے کا حوصلہ کر سکتا ہی نہیں اور کرے گا بھی تو لازماً اپنے کسی دنیوی مفاد کو سامنے رکھ کر کرے گا۔ یہ انفاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک بالکل بے برکت ہے۔ سورۂ ماعون میں فرمایا ہے: ’اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ۵ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ۵ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘ (الماعون ۱۰۷: ۱-۳) (تم نے دیکھا روز جزا کے جھٹلانے والے کو! یہی ہے جو یتیموں کو دھکے دیتا اور مسکینوں کو کھلانے پر نہیں ابھارتا)۔